سورہ آل عمران كي آخري پانچ آيات ( ۱۹۰ اليٰ ۱۹۴ ) نہايت عظيم اور دلنشين ہيں نيز يہ آيات بہترين عرفاني مناجات ہيں جو صالح بندوں كے دل سے نكلتي ہيں ۔
ائمہ معصومين عليھم السلام نے اپنے چاہنے والوں كو يہ حكم ديا ہے كہ نماز شب كے لئے اٹھتے وقت ان آيات كي تلاوت كيا كريں ۔ وہ آيات يہ ہيں ۔
اِنَّ في خَلْقِ السَّماواتِ وَ الاَرْضِ وَ اِخْتِلافِ اللَّيْلِ وَ النَّهارِ لآياتٍ لِاُولِيِ الْاَلْبابِ الَّذينَ يَذْكُرُوْنَ اللهَ قيامَاً وَ قُعُوداً وَ عَلي جُنُوبِهِمْ وَ يَتَفَكَّرُونَ في خَلْقِ السَّماواتِ وَ الاَرْضِ رَبَّنا ما خَلَقْتَ هذا باطِلاً سُبْحانَكَ فَقِنا عَذابَ النّارَ رَبَّنا اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النّار فَقَدْ اَخْزَيْتَهُ وَ ما لِلظّالِمينَ مِنْ اَنْصارٍ رَبَّنا اِنَّنا سَمِعْنا مُنادِياً يُنادي لِلْاِيْمانِ اَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فآمَنّا رَبَّنا فَاغْفِرْلَنا ذُنُوبَنا وَ كَفِّرْ عَنّا سَيِّئاتِنا وَ تَوَفِّنا مَعَ الاَبْرارِ رَبَّنا وَ آتِنا ما وَعَدْتَنا عَلَي رُسُلِكَ وَ لا تُخْزِنا يَوْمَ القِيامَةِ اِنَّكَ لا تُخْلِفُ الميعادَ
پيغمبر اكرم (ص) اور رات كي تاريكي ميں ان آيات كي تلاوت
امام صادق عليہ السلام سے پيغمبر اكرم (ص) كي شبانہ عبادتوں كے سلسلے ميں ايك روايت منقول ہے جس كا خلاصہ يہ ہے :
پيغمبر اكرم صلي اللہ وسلم وضو كا پاني اپنے سرہانے ركھتے تھے اور اسے اوپر سے ڈھانك ديا كرتے تھے اور مسواك اپنے بستر كے نيچے ركھتے تھے ۔ تھوڑي دير سونے كے بعد اٹھتے اور آسمان كي جانب ديكھ كر ان آيات كي تلاوت فرماتے ۔" ان في خلق السماوات والارض ۔۔۔الخ" اس كے بعد مسواك كرتے اور وضو كر كے مسجد ميں تشريف لاتے ، پھر چار ركعت نماز پڑھ كر ركوع ميں جاتے اور نہ جانے كتني دير تك ركوع كي حالت ميں رہتے پھر سجدہ ميں سر ركھتے تو نہ معلوم پھر كب سجدے سے سر اٹھاتے تھے ۔
پھر اپنے بستر پر آتے اور تھوڑي دير استراحت فرماتے اور پھر اٹھ كر بيٹھتے اور متذكرہ آيات كي تلاوت فرماتے اور آسمان كي جانب ديكھتے رہتے تھے ۔پھر مسواك كر كے وضو فرماتے اور مسجد ميں آكر چار ركعت نماز متذكرہ طريقے سے ادا كرتے اور پھر اپنے بستر كو لوٹ جاتے اور تھوڑا استراحت كرنے كے بعد پھر بيدارہوتے اور آسمان كي جانب ديكھتے ہوئے متذكرہ آيات كي تلاوت فرماتے اور مسواك اور وضو كر كے مسجد ميں تشريف لے جاتے اور دو ركعت نماز ادا كرنے كے بعد نماز وتر بجالاتے اور پھر نماز صبح كے لئے آمادہ ہوتے تھے ۔
اقتباس از كتاب " بہار جان ھا " تاليف آيۃ اللہ كريمي جھرمي
- مطالب [1]