شيخ صدوق(رہ) ناقل ہيں كہ اسماعيل بن سہل نے كہا : ميں ابو جعفر ثاني (امام محمد تقي عليہ السلام ) كو ايك خط لكھا كہ " مجھے ايسے ذكر كي تعليم ديں جس كے ذريعہ ميں دنيا و آخرت ميں آپ كے ہمراہ رہوں"
حضرت نے جواب ميں اپنے دست مبارك سے نوشتہ يہ جواب بھيجا، ميں ان كے دستخط كو پہچانتا تھا۔
اَكْثِرْ مِنْ تِلاوَةِ اِنّا اَنْزَلْناهُ وَ رَطِّبْ شَفَتَيْكَ بِالاِسْتِغْفارِ
زيادہ سے زيادہ سورہ انا انزلناہ كي تلاوت كيا كرو اور اپنے لبوں كو ہميشہ استغفار سے تر ركھو ( يعني ہميشہ استغفار كرتے رہو ) ۔
اقتباس از كتاب " بھار جان ھا" تاليف آيۃ اللہ كريمي جھرمي
- مطالب [1]