حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے كہنوج كے طلاب كي عمامہ گزاري كے موقع پر فرمايا : آج كا دن دنيا كے تمام مسلمانوں كے لئے عيد كا دن ہے جس دن معنويت كو ماديت پر فتح حاصل ہوئي ۔
عيد قربان كے مبارك و مسعود موقع پر شہر كہنوج كے ۲۴ طلاب علوم دين آيۃ اللہ العظميٰ صافي كے دست مبارك سے معمم ہوئے ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے دور حاضر ميں طلاب اور علماء كے اہم وظائف كي جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : علماء كو ہميشہ اسلام و مسلمين كي خدمت كے لئے خود كو آمادہ ركھنا چاہئےاور خود كو امام زمانہ(عج) كا سپاہي سمجھتے ہوئے ہر قدم آنحضرت كے مرضي كے مطابق اٹھانا چاہئے ۔ ۔۔۔ آگے [1]
رسم عمامہ گزاري كي تصاوير [2]
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے شہر كہنوج كے اس مدرسے ميں جہاں تين محروم صوبوں(كرمان ،سيستان و بلوچستان اور ہرمزگان) كے طلاب علم دين حاصل كر رہے ہيں اور اس علاقہ ميں دشمن كي سرگرمياں بام عروج پر ہيں، كي جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : طلاب كو دنيا كے جديد وسائل سے ليس ہونا چاہئے اور دشمن كي ثقافتي يلغار جس نے تمام الٰہي اديان بالخصوص تشيع كو نشانہ بنايا ہے ، ان كا ڈٹ كر مقابلہ كرنا چاہئے ۔
معظم لہ نے محروم علاقوں ميں باطل فرقوں كي تبليغات كے مقابلے ميں علماء كو بيدار اور ہوشيار رہنے كي تاكيد كرتے ہوئے فرمايا : ہدايت، ارشاد اور معاشرے كي كمزوريوں كو دور كرنا علماء كا اصلي وظيفہ ہے ۔
آپ نے علماء كو معاشرے ميں اتحاد اور ہمدلي كا مظہر قرار ديتے ہوئے فرمايا : علماء كو پارٹي بازي سے دور رہ كر لوگوں كو اتحاد اور ہمدلي كي دعوت ديں ۔ آپ نے فرمايا : علماء كو ايسا ہونا چاہئے كہ ہر پارٹي اور ہر گروہ كا انسان ان سے اپني مشكلات بيان كر سكے ۔
مرجع تقليد عالم تشيع نے علماء كو ہر زمانہ ميں بے پناہ لوگوں كي پناہ گاہ قرار ديتے ہوئے فرمايا : علماء اور روحانيت كو ہر علاقہ ميں سرگرم عمل رہنا چاہئے ،دشمنوں كے شبہات اور تفرقہ اندازي كا جواب دينا چاہئے اور لوگوں كے درميان رہنا چاہئے تاكہ لوگوں كا درد نزديك سے درك كر سكيں اور ان كے ساتھ ہمدردي كر سكيں ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے محروم علاقوں كے لوگوں كي معيشتي اور معاشرتي مشكلات كي جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : آپ لوگ جو خود اسي معاشرے كا حصہ ہيں اور ان كے درد كو سمجھتے ہيں،آپ كا لوگوں كے درميان رہنا ان كے لئے دلگرمي كا سبب بنتا ہے اور امام زمانہ (عج) كے سپاہيوں كے ساتھ انس و الفت ميں اضافے كا باعث ہوتا ہے ۔
آپ نے طلاب اور علماء كو علوم آل محمد كي تحصيل ميں جديت كي تاكيد كرتے ہوئے فرمايا : ايك عالم كي ترقي كا سب سے اہم سبب خالص نيت اور بغير منت كي خدمت قرار ديا ۔
معظم لہ نے آخر سخن ميں طلاب كے لئے ضروري اخلاقي مسائل بيان فرمايا ۔
- دیدار [3]