شہر مقدس كربلا كے امام جمعہ كي حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات
علامہ شيخ عبدالمہدي كربلائي شہر مقدس كربلا كے امام جمعہ نے چہارشنبہ مورخہ ۱۸ اگست ۱۰ كو مشہد مقدس ميں حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ان كي قيامگاہ پر ملاقات كي اور گفتگو كي ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے عراق كے موجودہ حالات كي حساسيت اور اہميت كے پيش نظر اس ملك كے تمام شيعوں سے يہ درخواست كي كہ سب شيعہ مرجع تقليد كے حكم كے مطابق اتحاد و ہمدلي كے ساتھ مشكلات كو برطرف كرنے اور حكومت تشكيل دينے كي كوشش كريں ۔
معظم لہ نے اسلام اور شيعيت كے دشمنوں كي عراق ميں حكومت كي تشكيل سے ناراضگي كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا : عراق ميں پيدا ہونے والے اتحاد و اتفاق سے دشمن كو نقصان پہنچ رہا ہے اور ان كے منافع كو خطرہ لاحق ہے اس لئے وہ ہر ممكن راستے سے اس كي مخالفت كر رہے ہيں يہاں تك كہ وہ جنايت اور بہت سے نہتے مسلمانوں كا قتل كر كے اپنے اہداف كو حاصل كرنا چاہتے ہيں ۔
مرجع عاليقدر نے فرمايا : عراق كے لوگوں كے تجربے كے پيش نظر اور جو وہاں كے لوگوں نے اب تك اہلبيت (ع) كي محبت ميں امتحان ديا ہے ، كبھي وہ دشمنوں سے خائف نہيں رہے اور اپنے شرعي وظيفہ كي انجام دہي ميں پيش قدم رہے ہيں ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے عراق كے عظيم شہداء كا ذكر كرتے ہوئے فرمايا : اس راہ ميں جو شہداء اپني جان دے رہے ہيں اللہ كے نزديك ان كا بہت بلند مرتبہ ہے اور سب كے سب عزيز و سرفراز ہيں اور ايران كي امت مسلمہ ان تمام مرنے والوں كو راہ اسلام كا شہيد جانتي ہے ۔
آخر سخن ميں انھوں نے اسلام اور عراقي شيعوں كي كاميابي اور دشمنوں كي نابودي كے لئے دعا كي اور فرمايا : ہم شہدائے عراق كے پسماندگان كے ہمدرد ہيں اور ان كے غم ميں برابر كے شريك ہيں ۔
اس ملاقات كے آغاز ميں علامہ عبدالمہدي كربلائي جو حضرت آيۃ اللہ العظميٰ سيستاني دامت بركاتہ كي جانب سے حرم سيد الشہداء عليہ السلام اور حرم ابو الفضل العباس عليہ السلام كے سرپرست ہيں، انھوں نے عراق كے شيعوں كے حالات اور عتبات عاليات كے حالات پر مشتمل ايك رپورٹ حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كي خدمت ميں پيش كي ۔