مسجد فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا كي تخريب سے روكنے كے لئے حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا پيغام جمہوري آذربائجان كے صدر كے نام
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمدللّه رب العالمين والصلاة والسلام علي سيدنا ابي القاسم محمد و آله الطاهرين لاسيما مولانا المهدي بقية اللّه في الارضين والحمدللّه الذي جعلنا و اياكم من المتمسكين بولاية اميرالمؤمنين عليه السلام
برادر ايماني جناب الھام علي اف صدر محترم جمہوري آذربائجان دام عزہ
السلام عليكم و علي اخواننا المؤمنين في مملكة آذربايجان
كلمۃ اللہ كي بلندي كي اميد اور آپ كے احترام كے ساتھ ميں سوئيت يونين كے انحلال اور آذربائجان كي خودمختاري كے زمانے سے اب تك جو بھي برادران و خواہران اس ديار سے قم زيارت كے لئے آتے ہيں اور مجھ سے ملاقات كرتے ہيں انھيں اس شيعہ ملك كي خودمختاري كي مباركباد پيش كرتا ہوں اور ان كے ساتھ دوستي اور برادري كا اظہار كرتا ہوں نيز اس ملك ميں شيعيت اور مولائيت كي حفاظت ميں اس ملك كے ولايت مدار لوگوں كي استقامت كي تعريف كرتا ہوں جو ان عزيز لوگوں كي پاكدلي اور نورانيت قلب كي دليل ہے ، مختصر يہ كہ ميں ان لوگوں كو دل سے دوست ركھتا ہوں ۔
ميرے پاس ان فولادي عزم ركھنے والے ولايت مدار لوگوں كي تحسين و قدرداني كے لئے الفاظ نہيں ہيں ۔ خود آپ اور آپ كے والد مرحوم جنہوں نے اس ملك كي خودمختاري كا پرچم اپنے ہاتھوں ميں سنبھال ركھا ہے اپنے بزرگوں كے لئے يقيناً اس بات پر فخر كرتے ہوں گے ۔ آپ كے مرحوم بزرگان جن سے آپ كا تعلق ہے اہلبيت عليہم السلام اور شيعي سنت كے معتقد تھے اور الحمد للہ ان كے پسماندگان ميں بھي دشمنوں كي شيعہ ستيز سياست كے باوجود يہ اعتقاد پايا جاتا ہے ۔ وہ لوگ ان سنتوں كي پابندي اور مذہبي ايام اور اسلامي شعائر بالخصوص مساجد اور امامبارگاہوں كي تاسيس، محرم و صفر اور رمضان المبارك ميں ديني اجتماعات ، اسلامي اخوت ،اخلاق كريمہ اور قرآني تعليمات كي تبليغ ميں شيعہ نشين علاقوں كے لوگوں سے اگر زيادہ سہيم نہ ہوں تو كم بھي نہيں تھے ۔ اس وقت موجودہ نسل اور خاص كر آپ جيسي شخصيت سے بھي يہي اميد ہے كہ ان سنتوں كے احياگر اور اپني قديم روايات كے پابند رہيں تاكہ روز علم و صنعت ميں افزون ترقي اور ملكي اقتدار و خودمختاري اور اقتصاد ميں روز بہ روز اضافہ ہو۔ دنيا كے كروڑوں شيعوں كي اميديں آپ سے اور آپ كي سياست و مديريت سے وابستہ ہيں اور آپ سے اس بات كي اميد لگائے ہيں كہ ملك ميں بنيادي ترقي ايجاد كريں ،اپنے تابناك سوابق كا پاس و لحاظ ركھتے ہوئے اسلامي سنتوں كو دوبارہ زندہ كريں اور مساجد كي از سر نو تعمير كريں ۔
ہر شيعہ اور مسلمان جسے آذربائجان سے لگاؤ ہے اس كے لئے يہ حالات دردناك ہيں كہ وہاں پر ايسے لوگ حكومت ميں ہوں جو اس ملك كي ولايت مداري كي اہانت كريں اور اس متحد معاشرہ ميں تفرقہ ايجاد كريں اور ان كي امنيت ميں خلل ايجاد كرتے ہوئے عام شہريوں كے حقوق كو پامال كريں ۔
جو مسجد صديقہ طاہرہ سيدۃ نساء العالمين حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليھا كے نام سے موسوم ہے اگر اس پر حملہ ہو يا خدا نخواستہ اسے بند كر ديا جائے تو يہ بہت ہي درد و رنج كا مقام ہے ۔ اس سے اس ملك كي حيثيت اور عزت كو ٹھيس پہنچے گا ۔
جنابعالي سے اس بات كي اميد ہے كہ اپني سياست و تدبير سے فتنوں كي يہ آگ بجھائيں اور فتنہ گروں كو روكيں اور خود جاكر اس مسجد كا احترام بجالائيں اور اس طرح عالم اسلام بالخصوص شيعوں كو سرفراز اور خوشنود كريں ۔
جنابعالي كي تحسين آميز اقدامات كا منتظر
شكر اللہ مساعيكم
قم المشرفة
24 جمادي الاولي 1431
لطف الله صافي