قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

لا زوال سورج (شہادت امام حسن عسكري عليہ السلام )

ابو سہل كہتے ہيں كہ خادم نے كہا : " ميں حجرے ميں پہنچا تو ديكھا ايك بچہ اپنا سرسجدہ ميں ركھے ہوئے ہے اور اپنے انگلي سے آسمان كي جانب اٹھائے ہوئے ہے ۔ ميں نے سلام عرض كي اور آنحضرت نے جواب سلام ديتے ہوئے اپني نماز و سجدے كو مختصر كيا ۔جب نماز تمام ہو گئي تو ميں نے عرض كيا امام عسكري عليہ السلام آپ كو بلا رہے ہيں ، اسي وقت آپ كي والدہ گرامي آئيں اور آنحضرت كو لے كر امام عسكري(ع) كے پاس پہنچيں ۔
ابو سہل كہتے ہيں جيسے ہي وہ بچہ امام عسكري عليہ السلام كے سامنے پہنچا اس نے سلام كيا ميں نے اس كے چہرہ كو ديكھا جو بدر كامل كي طرح منور تھا اس كے بال گھنگھريلے تھے اور دونوں دانتوں كے درميان فاصلہ تھا ۔جيسے ہي امام عسكري (ع) كي نگاہ اپنے فرزند پر پڑي تو آپ رونے لگے اور فرمايا : اے اپنے خاندان كے سردار! مجھے پاني پلاؤ ميں اب اپنے پروردگار كي جانب كوچ كرنے والا ہوں ، آنحضرت نے پاني كا پيالہ اپنے ہاتھوں ميں ليا اور اسے اپنے والد گرامي كے منہ ميں لگا كر آپ كو سيراب كيا ۔ پھر امام عسكري عليہ السلام نے فرمايا : بيٹا ! ميں تمھيں بشارت ديتا ہوں كہ تم مھدي اور حجت خدا ہو ،تم ميرے فرزند اور ميرے جانشين ہو تمھيں محمد بن حسن فرزند علي فرزند محمد فرزند علي فرزند موسيٰ فرزند جعفر فرزند محمد فرزند علي بن الحسين بن علي ابن ابيطالب (عليھم السلام ) ہو ۔ رسولخدا(صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) تمہارے باپ ہيں اور تم خاتم الاوصياء(ع) ہو تم رسولخدا(ص) كے ہمنام ہو اور يہ وہ عہدہ ہے جو مجھے اپنے باپ اور انھيں اپنے آباء و اجداد عليھم السلام سے ملا ہے ۔
يہ كہتے ہوئے حضرت امام حسن عسكري عليہ السلام درجہ شہادت پر فائز ہو گئے ۔
اقتباس : كتاب الغيبۃ ، شيخ محمد بن حسن طوسي(رہ)