قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

وہابيوں نے ساري دنيا كو ناامن كر ركھا ہے : آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

گزشتہ دنوں حزب موتلفہ اسلامي كے جنرل سكريٹري اور چند ممبران نے حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي سے ملاقات كي ۔
اس ملاقات ميں آيۃ اللہ العظميٰ صافي كي گفتگو سے قبل حزب كے سكريٹري جناب ڈاكٹرنبي حبيبي نے آيۃ اللہ العظميٰ صافي كو ان كے بھائي آيۃ اللہ العظميٰ علي صافي كي وفات كا پرسہ ديا اور پھر آيۃ اللہ العظميٰ صافي كي خدمت ميں اسلامي ممالك اور علاقے كے ديگر مسلمانوں كے حالات اور شيعہ دشمنوں كي كاركردگي كي گزارش پيش كي ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے ان كا شكريہ ادا كرتے ہوئے فرمايا : اسلامي دنيا آج بہت ہي نازك موڑ پر پہنچ چكي ہے ۔ ايسے نازك موڑ پر چونكہ اسلام كے حقيقي پيرو شيعہ ہي ظلم و بربريت كے مقابلہ ميں اپنے عقائد ، اخلاقي اقدار اور اپنے مادي منافع سے دفاع كرنے ميں كامياب رہے ہيں اس لئے ہم سب كے لئے يہ فخر كي بات ہے ۔

معظم لہ نے استعماري طاقتوں كي جانب سے پيدا كئے گئے ہوئے چند اسلام دشمن فرقوں كي جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : يہ لوگ استعماري طاقتوں كا آلہ كار ہيں اور اپنے ضد اسلامي اعمال كے ذريعہ اسلام كے چہرے كو شدت پسند اور ضد انساني بنا كر پيش كرتے ہيں ۔
آپ نے اسلامي ممالك ميں دہشتگردانہ حملوں پر افسوس ظاہر كرتے ہوئے فرمايا : وہابي فرقے نے اسلامي دنيا كو ناامن بنا ركھا ہے اور مسلمانوں سے چين اور سكون سلب كر ليا ہے ، غير مسلم ممالك ميں امنيت اور آسايش ہے ليكن پاكستان ، افغانستان اور عراق جيسے اسلامي ممالك ميں روز سيكڑوں بے گناہوں كا خون بہايا جا رہا ہے ۔
آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے سعوديہ ميں اسلامي ميراثوں كي مسماري پر شديد تنقيد كرتے ہوئے فرمايا : سعوديہ ميں اسلام كي زندہ تاريخ جسے اسلام كي ثقافتي ميراث كہا جاتا ہے اسے نابود كيا جا رہا ہے ، اس كے ذريعہ وہ اسلام كي تاريخي حيثيت كو خدشہ دار كرنا چاہتے ہيں ۔ تاريخ صرف لكھي ہوئي كتابوں ميں نہيں پائي جاتي جن ميں تحريف كا بھي امكان ہے بلكہ ہر قوم و ملت كي زندہ اور مجسم تاريخ اس كے آثار قديمہ ہيں جو ہزارہا سال سے موجود ہيں ۔
مرجع تقليد نے فرمايا : وہ لوگ جہاں بھي پيغمبر اكرم (ص) اور ائمہ معصومين عليھم السلام يا ان كے اصحاب كي كوئي بھي نشاني تھي اسے مسمار كر ديا ، وہ گھر جو پيغمبر (ص) اور اہلبيت (ع)كي سادہ زيستي كي علامت تھا اسے بيہودہ اور غير اخلاقي بہانوں سے مٹا ديا اور آج بھي اسلامي تاريخوں ميں ان كي ياد منانے كي مخالفت كرتے ہيں ۔
معظم لہ نے آيۃ " فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ" كي جانب اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : جس وقت يہ آيت نازل ہوئي ابو بكر نے مولائے كائنات عليہ السلام كے گھر كي جانب اشارہ كرتے ہوئے پوچھا : كيا علي كا گھر بھي ان گھروں ميں شامل ہے ؟ حضرت نے جواب ديا " ھي من افاضلھا " بيشك يہ گھر بہترين گھروں ميں سے ہے جنہيں خداوند عالم نے رفعت اور بلندي عطا كي ہے ۔ ليكن افسوس كي وہابيوں نے اس گھر اور اس كے آثار كو زمين بوس كر ديا ، عالم اسلام كے لئے يہ شرمندگي كي بات ہے ۔
اپني گفتگو كے آخر حصہ ميں آپ نے تمام كاموں ميں اخلاص اور خدائي رنگ كو ضروري قرار ديتے ہوئے فرمايا : دين كي بنياد، راہ خدا ميں دوستي اور دشمني ہے، دين محبت اور دشمني كے علاوہ اور كچھ ہے بھي نہيں ، ہمارا ہر قول و فعل خدا كے لئے ہونا چاہئے ؛ اگر كسي سے دوستي كريں تو خدا كے لئے ،اگر دشمني كريں تو بھي خدا كے لئے ، آج جو ہماري مشكلات بڑھتي چلي جا رہي ہيں يہ اس لئے ہے كہ ہمارے سارے كام خدا كے لئے نہيں ہوتے ہيں ، خدا كي رضا ہمارا مطمع نظر ہونا چاہئے ،امر بالمعروف ، نہي عن المنكر اور ہمارے تمام كاموں ميں خدائي رنگ پايا جانا چاہئے ۔
آخر سخن ميں آپ نے فرمايا : عشرہ فجر نزديك ہے جس ميں ہم انقلاب اسلامي كے كاميابي كي يادگار مناتے ہيں ، يہ عشرہ شكرگزاري كا عشرہ ہے اسے ہم گناہوں سے آلودہ نہ كريں ، ہم سب پر يہ فرض ہے كہ ان پروگراموں كو خدائي رنگ كے ساتھ منعقد كريں ۔