قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

ماہ صفر كي بلاؤں سے محفوظ رہنے كي دعا

 

يا شَديدَ الْقُوى‏ وَيا شَديدَ الْمِحالِ يا عَزيزُ يا عَزيزُ يا عَزيزُ ذَلَّتْ بِعَظَمَتِكَ جَميعُ خَلْقِكَ فَاكْفِنى‏ شَرَّ خَلْقِكَ يا مُحْسِنُ يا مُجْمِلُ يا مُنْعِمُ يا مُفْضِلُ يا لا اِلهَ اِلاّ اَنْتَ سُبْحانَكَ اِنّى‏ كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَنَجَّيْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَكَذلِكَ نُنْجِى الْمُؤْمِنينَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلى‏ مُحَمَّدٍ وَ الِهِ‏ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ!
اے سخت قوت ركھنے والے! اے سختگير ، اے عزيز ، اے عزيز ، اے عزيز ! تيري بزرگي كے سامنے ساري خلقت خوار و ذليل ہے ، پس مجھے اپني مخلوق كے شر سے محفوظ ركھ ، اے احسان كرنے والے ، اے نعمت بخش ، اے عطا كرنے والے ، اے وہ جس كے سوا كوئي معبود نہيں ، تيري ذات منزہ ہے اور يقيناً ميں گناہگاروں ميں سے ہوں ، ہم نے اس كي دعا كو قبول كيا اور اسے غم سے نجات بخشي ، اور ہم اسي طرح مومنين كو نجات ديتے ہيں ، خداوند محمد (ص) اور ان كي پاكيزہ آل پر رحمت نازل فرما ۔