قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

عزاداري كے احكام

سوال ۱۔ كالا لباس پہننا مكروہ ہے كيا يہ كراہت غم حسين عليہ السلام ميں پہنے جانے والے لباس كو بھي شامل ہے ؟
جواب : امام حسين عليہ السلام كے غم ميں سياہ لباس پہننا مكروہ نہيں بلكہ مطلوب ہے ۔
سوال ۲۔ عزائے امام حسين عليہ السلام ميں سياہ لباس پہن كر نماز پڑھنا كيسا ہے ؟
جواب : امام حسين عليہ السلام كي عزا ميں سياہ لباس پہننا مطلوب ہے لہذا نماز ميں كراہت كا جبران ہو جاتا ہے انشاء اللہ ۔۔۔
عزاداري كي كيفيت
سوال ۳۔ امام حسين عليہ السلام كے غم ميں گريبان چاك كرنا اور سر و سينہ پيٹنا كيسا ہے ؟

جواب : امام حسين عليہ السلام كے غم ميں گريبان چاك كرنے اور سر و سينہ پيٹنے ميں كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۴۔ دائرہ بنا كر گھومنا اور جھك كر ماتم كرنے كا كيا حكم ہے ؟
جواب : كوئي حرج نہيں ہے ليكن يہ خيال رہے كہ اس سے عزاداري كا وقار پامال نہ ہونے پائے ۔
سوال ۵۔ قميض اتار كر برہنہ حالت ميں ماتم كرنا كيسا ہے ؟
جواب : اگر نا محرم كي نگاہ نہ پڑتي ہو تو كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۶۔ سينہ زني ،زنجير زني يا سر و صورت كو اس طرح پيٹنا كہ بدن كو ضرر پہنچے جيسے چہرہ زخمي ہو جائے يا خوني ہو جائے تو اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : اگر ضرر معمولي ہو تو كوئي ٓحرج نہيں ہے ۔
سوال ۷۔ ايسے مقامات پر عزاداري كرنے كا كيا حكم ہے جہاں كے رہنے والے ديني شعائر كے پابند نہ ہوں بلكہ نوحہ و ماتم كو عجيب غريب كام سمجھتے ہوں يا اس كا مذاق اڑاتے ہوں جس سے عزاداري كي توہين ہو ۔
جواب : اس طرح كے مقامات پر مجلسيں برپا كرنا چاہئے اور نوحہ و ماتم كرنا چاہئے ان مجلسوں ميں بزرگ علماء كو بلا كر مجلسيں پڑھوائيں جو سامعين كے لئے حقيقي اسلام بيان كريں ، اس طرح سے ميں نہيں سمجھتا كہ كوئي عزاداري كا مذاق اڑائےگا البتہ دين اسلام كي تبليغ ميں چند نادان لوگوں كے تمسخر اور مذاق اڑانے كي پرواہ بھي نہيں كرني چاہئے ۔
عزاداري كا طريقہ
سوال ۸۔ عاشور كے دن علم كو گھمانا ، موم بتي جلانا ، يا شبيہ تابوت بنانا كيسا ہے ؟
جواب : كوئي حرج نہيں ہے
سوال ۹۔ علم اٹھانا كيسا ہے ؟
جواب : حضرت اباعبداللہ الحسين عليہ السلام كي عزاداري ميں علم اٹھانا شعائر ديني كے احترام ميں شامل ہے لہذا اگر علم پر جاندار چيزوں كي تصوير نہ بني ہو تو كوئي حرج نہيں بلكہ مطلوب ہے ۔
سوال ۱۰ ۔ شام غريباں ميں شمعيں جلانا كيسا ہے ؟ كيا يہ بدعت نہيں ہے ؟
جواب : كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۱۱۔ بعض جگہوں پر عزاداري ميں شبيہ بناتے ہيں جيسے قبر حضرت زہرا (س) كي شبيہ يا جناب سكينہ كا تابوت ، اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۱۲۔ ائمہ معصومين عليہ السلام كي تصويريں بنانا ، نشر كرنا اور بيچنا ،خريدنا كيسا ہے ؟
جواب : ان تصاوير كے صحيح ہونے پر كوئي دليل نہيں ہے لہذا بہتر ہے ان سے پرہيز كيا جائے ۔
عزاداري كے آداب و اخلاق
سوال ۱۳۔ اگر كوئي شخص مجلس عزا ميں دكھانے كے لئے زور زور سے روئے يا تيز تيز سينہ زني يا زنجير زني كرے تو كيا يہ ريا ہے اور اس كي عزاداري باطل ہے ؟ اور اگر وہ دوسروں كو رلانے كے لئے ايسا كرے تو اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : ريا كاري كسي صورت جائز نہيں ہے ليكن عزاداري مين تباكي (رونے والوں جيسي صورت بنانا ) شعائر ديني كي تعظيم ہے ريا نہيں ہے ۔
سوال ۱۴۔ جن مجالس ميں بہت زيادہ ازدحام ہوتا ہے كبھي كبھي خادمين حضرت امام حسين (ع) عزاداروں كے ساتھ بدسلوكي كرتے ہيں (يعني ان كو ڈانٹتے ہيں يا انھيں دھكيل ديتے ہيں) شريعت كي رو سے ان كي بدسلوكي كا كيا حكم ہے ؟
جواب : عزاداروں اور مجلس ميں شركت كرنے والوں كے ساتھ ادب و احترام سے پيش آنا چاہئے ۔
سوال ۱۵۔ كيا مجالس ميں شركت كرنے كے لئے ماں باپ كي رضايت شرط ہے ؟ يا بغير ان كي مرضي كے مجلس ميں شركت كي جا سكتي ہے ؟
جواب : اس كے موارد مختلف ہيں ( كہيں پر شرط ہے اور كہيں پر شرط نہيں ہے )
سوال ۱۶۔ ماہ محرم خاص طور پر عاشور كے دن ہنسي مذاق كرنا كيسا ہے ؟
جواب : صحيح نہيں ہے ۔
سوال ۱۷۔ ايسے راستوں پر مجلس و ماتم برپا كرنا كيسا ہے جہاں رفت و آمد ميں مشكل ايجاد ہوتي ہو ؟
جواب : معمول كي حد تك جائز ہے ۔
سوال ۱۸۔ بعض انجمنيں گلي اور سڑكوں پر شاميانہ لگا كر مجلسيں برپا كرتي ہيں جس سے بعض پاس پڑوس والے راضي نہيں ہيں ، ان مجالس اور ان ميں شركت كرنے كا كيا حكم ہے ؟
جواب : مجالس كو اس طرح برپا كيا جائے كہ راستہ چلنے والوں اور پاس پڑوس والوں كو اذيت نہ ہو ۔
سوال ۱۹۔ آدھي رات كو مجلس و ماتم كرنا جس سے ديگر لوگوں كے آرام ميں خلل پڑتا ہو ، اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : كلي طور پر لوگوں كو اذيت كرنا جائز نہيں ہے چاہے جاگ رہے ہوں يا سو رہے ہوں ، لہذا مجلسوں كو معمول اور عرف كے مطابق منعقد كرنا چاہئے ۔ البتہ بعض موارد ميں جيسے شب عاشور كو مجلسيں برپا كرنا اذيت نہيں ہے ۔
سوال ۲۰۔ اگر كوئي مجلس بپا كرنے والا يہ چاہے كہ اس كي مجلس ميں بہت سے لوگ شركت كريں تو يہ صحيح ہے ؟
جواب: مجالس ميں جتنا بھي ازدحام ہو اور جتني بھي شان و شوكت سے مجلسيں بپا كي جائيں اس كا اثر بھي اتنا ہي زيادہ ہوگا اور اگر اس كي طرف اتني توجہ نہ دي جاتي تو دين و اسلام كے دشمن خاص طور مغرب زدہ لوگ اس واقعے كا انكار كر ديتے ۔
ليكن سب كو معلوم ہونا چاہئے كہ مجالس عزا ميں جو عظيم اجر و ثواب ركھا گيا ہے اسے حرام كاموں كے ذريعہ ختم نہ كريں لہذا جو چيزيں بھي مذہب يا عزاداري كي توہين كا سبب بنيں ان سے پرہيز كرنا ضروري ہے۔
نماز اور عزاداري
سوال ۲۱۔ اگر كوئي شخص يہ احتمال دے كہ اگر وہ دير تك عزاداري ميں مشغول رہے گا تو اس كي نماز صبح قضا ہو جائے گي تو اس كا وظيفہ كيا ہے ؟
جواب : نماز كے قضا نہ ہونے كا خيال ركھنا واجب ہے ۔
سوال ۲۲۔ اگر كوئي انسان نماز نہ پڑھتا ہو ، روزہ نہ ركھتا ہو اور امام حسين عليہ السلام كا ماتم كرے اسي طرح وہ شخص جو خمس و زكات ادا نہيں كرتا كيا وہ امام حسين عليہ السلام كي مجلسوں ميں اپنا مال خرچ كر سكتا ہے ؟ كيا اس كو مال خرچ كرنے پر ثواب بھي ملے گا ؟
جواب : نماز اور روزہ واجب ہے ليكن امام حسين عليہ السلام كي عزاداري اور ان پر گريہ كرنا مستحب ہے ، انسان كو نماز و روزہ كا خيال ركھنا چاہئے اور جس مال ميں خمس واجب ہو پہلے اس كا خمس ادا كرنا واجب ہے پھر اسے امام حسين عليہ السلام كي عزاداري يا ديگر كار خير پر خرچ كرنا چاہئے ۔ جس مال پر خمس واجب ہو بغير خمس ادا كئے ہوئے اس مال كا كسي مد ميں خرچ كرنا چاہے كسي كار خير كے لئے ہو حرام ہے۔
سوال ۲۳۔ روز عاشور ظہر كے وقت مومنين گريہ و زاري ميں مشغول رہتے ہيں اور نماز ظہر كا وقت آجاتا ہے تو ايسي صورت ميں مومنين كا وظيفہ كيا ہے ؟
جواب : ايسي صورت ميں دونوں فرائض كو ايك ساتھ انجام دينا چاہئے يعني امام حسين عليہ السلام كے لئے عزاداري بھي كي جائے اور نماز كو بھي اول وقت ادا كيا جائے ۔
عورتوں كي عزاداري
سوال ۲۴۔ ائمہ اطہار عليہم السلام كے لئے منعقد ہونے والي مجالس ميں اگر نا محرم بھي موجود ہوں تو عورتوں كا بلند آواز سے گريہ و نوحہ كرنا كيسا ہے ؟
جواب: كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۲۵۔ جس وقت مرد حضرات نوحہ و ماتم ميں مشغول ہوتے ہيں تو عورتوں كا كھڑے ہو كر انھيں ديكھنا كيسا ہے اور ايسي صورت ميں خود عزاداروں كا كيا وظيفہ ہے ؟
جواب : عورتوں كے لئے نا محرم كے بدن كو عرياں ديكھنا جائز نہيں ہے ۔
سوال ۲۶۔ عورتوں كا ماتمي انجمنوں كے پيچھے چلنا كيسا ہے ؟
جواب : اگر گناہ اور معصيت كا باعث نہ ہو تو كوئي حرج نہيں ہے ۔
مجلس عزا ميں خطباء اور نوحہ خوانوں كا وظيفہ
سوال ۲۷۔ حضرت عالي كي نظر ميں نوحہ خواني كا كيا حكم ہے اور ايك نوحہ خوان كو كن صفات كا حامل ہونا چاہئے ؟
جواب : اگر اہلبيت(ع) پر نوحہ خواني خدا كے لئے ہو تو عبادت ہے اور اس كا بہت اجر و ثواب ہے اس لئے ايك نوحہ خوان كو اہل تقويٰ ہونا چاہئے اور ايسے اشعار پڑھنا چاہئے جو جھوٹ اور ناحق نہ ہو اور نوحہ خواني كو قصد قربت كے ساتھ انجام دينا چاہئے تاكہ اس كا ثواب بھي ملے اگر چہ اس كي اجرت لينے ميں بھي كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۲۸۔ بعض نوحہ خوان اس طرح حسين حسين كہتے ہيں جس سے مجمع ميں شور و ہيجان ايجاد ہوتا ہے اور لوگ اٹھنے بيٹھنے لگتے ہيں ؟ ايسا كرنا صحيح ہے ؟
جواب : اگر نوحہ خواني غنا (گانے ) كي طرح ہو تو حرام ہے ۔
سوال ۲۹ ۔ ميوزيك كے ساتھ نوحہ پڑھنا كيسا ہے ؟
جواب : حرام ہے ۔
سوال ۳۰ ۔ مجالس سيد الشہداء عليہ السلام ميں خطابت اور نوحہ خواني كے لئے اجرت لينے كا كيا حكم ہے ؟
جواب : جائز ہے ۔
سوال ۳۱۔ بعض دعا پڑھنے والے دعائے كميل ، دعائے ندبہ يا زيارت عاشورا كے درميان مصائب پڑھتے ہيں اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : بہتر ہے كہ دعا كے درميان شعر ومصائب نہ پڑھا جائے ليكن دعاؤں كے درميان مصائب پڑھنے ميں كوئي حرج نہيں ہے ۔ البتہ اگر اتنا زيادہ مصائب و شعر پڑھا جائے كہ عرفاً حالت دعا سے خارج ہو تو نہيں معلوم اس كو دعا كا ثواب ملے گا يا نہيں ۔
عزاداري كے لئے مستند كتابيں
سوال ۳۲۔ كيا مرحوم ملا حسين كاشفي كي كتاب روضۃ الشہداء اور ملا دربندي كي كتاب اسرار الشہادۃ ميں واقعہ عاشورا كو تحريف كر كے پيش كيا گيا ہے ؟
جواب : ہميں يہ حق نہيں ہے كہ ان كتابوں كے مولفين كي طرف تحريف كي نسبت ديں ۔البتہ جو واقعات ان كتابوں ميں لكھے گئے ہيں اور ان كے واقع ہونے كا احتمال ہو اور ان كے انكار پر كوئي دليل نہ ہو تو ہم ان كا انكار نہيں كر سكتے ہيں ليكن جن مطالب كے واقع نہ ہونے پر دليل پائي جاتي ہے ان كو نقل نہيں كرنا چاہئے ۔
سوال ۳۳۔ فارسي اور عربي كي معتبر كتابيں كون سي ہيں ؟
جواب : جن كتابوں سے محدث حاج شيخ عباس قمي نے مطالب نقل كئے ہيں ان سے مطالب نقل كئے جا سكتے ہيں ۔
سوال ۳۴۔ بے بنياد مصائب يا جن كے وقوع كے بارے ميں شك ہو ان كا پڑھنا كيسا ہے ؟
جواب : بے بنياد مصائب پڑھنا جائز نہيں ہے ليكن جن كے واقع ہونے كا احتمال پايا جاتا ہو ان كے پڑھنے ميں كوئي حرج نہيں ہے ۔
سوال ۳۵۔ اگر كوئي بے بنياد اور غير مستند مصائب پڑھے تو سننے والے كا كيا فرض ہے ؟
جواب : اگر ذاكرين كرام سے كوئي جھوٹي بات سنيں تو ان كا شرعي وظيفہ ہے كہ اسے بتائيں اور تمام سامعين كا يہي فرض ہے ۔
عزاداري سے متعلق اموال
سوال ۳۶۔ اگر مجلس عزا ميں ايسے اموال سے استفادہ كيا جائے جس كا مالك راضي نہ ہو تو ايسي مجالس ميں شركت كرنا كيسا ہے اور اگر پہلے سے نہ معلوم ہو كہ مالك راضي نہيں ہے تو اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : اگر جس مال ميں تصرف كيا ہے وہي مال حرام ہو تو اس ميں تصرف كرنا جائز نہيں ہے اور تصرف كرنے والا ضامن ہے ۔
سوال ۳۷۔ جو رقم عزاداري ميں كسي خاص كام كے لئے ہديہ كي گئي ہو اس كا ديگر امور ميں خرچ كرنا كيا ہے (مثال كے طور پر جو رقم كھانا كھلانے كے لئے دي گئي ہو اس سے سامان وغيرہ خريدا جائے )
جواب : جس رقم كا مد معين ہو اس كو دوسرے مد ميں خرچ كرنا جائز نہيں ہے بلكہ خرچ كرنے والا اس كا ضامن ہے ۔
سوال ۳۸۔ جو اموال شرعاً عزاداري كے لئے وقف نہ كئے گئے ہوں ليكن انھيں عزاداري ميں استفادہ كرنے كے لئے ركھا گيا ہو ان كا ذاتي كاموں ميں استفادہ كرنا كيسا ہے اور اگر كوئي ناداني ميں استفادہ كر لے تو اس كا كيا حكم ہے ؟
جواب : ان وسائل كا ذاتي طور پر استعمال كرنا جائز نہيں ہے ۔ جس نے ناداني ميں استفادہ كيا ہو وہ توبہ كرے بلكہ بعض موارد ميں استفادہ كرنے والا ضامن ہے ۔
سوال ۳۹۔ اگر كوئي رقم عاشور كے دن كھانا كھلانے كے لئے دي جائے تو ديگر ايام ميں كھانے پر خرچ كي جا سكتي ہے ؟
جواب : اس مورد ميں روز عاشور كے علاوہ يہ رقم نہيں خرچ كي جا سكتي ہے ۔
عزاداري ميں آلات موسيقي سے استفادہ كرنا
سوال ۴۰ ۔ ڈھول ، تاشہ ، بانسري وغيرہ كا عزاداري اور نوحہ خواني ميں استعمال كرنا كيسا ہے ؟
جواب : جائز نہيں ہے ۔

اقتباس : گفتمان عاشورائي ۔ تاليف آيۃ اللہ العظميٰ شيخ لطف اللہ صافي گلپائگاني