عشرہ غدير كے پر مسرت موقع پر حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا اہم پيغام
قال اللہ تعاليٰ : اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام ديناً
و الحمدلله الذي جعل من المتمسكين بولاية امير المؤمنين و الائمة من ولده المعصومين سيما الامام المبين و الكهف الحصين و غياث المضطر المستكين مولانا المهدي بقية الله في الارضين عليهم افضل صلوات الله تعالي و انبيائه المرسلين و الملائكة المقربين
برادران و خواہران ايماني ! شيعيان مخلص !پاك طينت غديري ! آپ سبھي حضرات كي خدمت ميں عيداللہ الاكبر، عيد اكمال دين و عيد اتمام نعمت و عيد اعلان ولايت پر ہديہ تہنيت و تبريك پيش كرتے ہيں ۔
سن۱۴۲۰ھ سے ايك جامع و كامل پيغام كے ہمراہ ان ايام كو عشرہ غدير كا عنوان دينے كي تجويز پيش كي گئي ۔
اس سال سے آج تك يہ پروگرام اپني آب و تاب كے ساتھ منايا جا رہا ہے اور ہر سال اس كي شان و شوكت ،معنويت اور بركات ميں اضافہ ہو رہا ہے اور شركت كرنے والے زندہ دل مومنين كي تعداد ميں ہميشہ اضافہ ہو رہا ہے ۔
يقيناً يہ پروگرام اس بات كا اہل ہے كہ اسے ہر جہت سے وسيع تر بنايا جائے اور معرفتي ،علمي ،تربيتي مقاصد اور مسلمانوں كے درميان اتحاد كي برقراري كے لئے اس سے بہتر و بيشتر استفادہ كيا جائے ۔
مكتب غدير ، مكتب جہاد ، مكتب قرآن اور مكتب انبياء ہے ۔ اس مكتب ميں تمام لوگوں كو اس دسترخوان پر دعوت دي گئي ہے جو علم و بصيرت قوت فكر سے مالامال ہے اور كہا جا سكتا ہے " عرضھا السمٰوات والارض " جس كي وسعت آسمان و زمين كے برابر ہے يا اس سے زيادہ ہے ۔ ملائكہ كروبين اور قدسيان عرش اس ميں آكر علم و معنويت سے فيضياب ہوا كرتے ہيں ۔
ايك عالم ناقل ہيں كہ ميں نے بغداد ميں ايك جلد ساز كي دكان پر ايك كتاب ديكھي جس كے آخر ميں لكھا ہوا تھا "حديث غدير كے اسناد كي ۲۸ويں جلد ،انشاء اللہ عنقريب ۲۹ويں جلد شائع ہونے والي ہے " اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس زمانے ميں حديث غدير كي اسناد پر ۲۹ جلد كتاب لكھي گئي تھي ۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے كہ علماء و محدثين نے اس واقعہ كو زندہ ركھنے كے لئے كس قدر اہتمام كيا ہے ۔ خطبہ غدير اور اس سے متعلق روايات و احاديث كے سلسلے ميں آج تك جو كچھ لكھا گيا ہے لا تعداد ہے ۔ اسلامي علوم و فنون جيسے علم تفسير ،علم حديث ، تاريخ اور كلام كے كے مختلف شعبوں ميں سب نے غدير كے متعلق گفتگو كي ہے ۔ ابن عقدہ جيسے متعدد علماء نے غدير كے متعلق مخصوص كتاب تاليف كيا ہے جن ميں اكثر كتابيں الولايۃ يا الغدير كے نام سے لكھي گئي ہيں ۔ گزشتہ صدي ميں بھي عبقات الانوار جيسي عظيم دائرۃ المعارف لكھي گئي ۔
حقير تمام محبان اور شيعيان اميرالمومنين (ع) سے درخواست كرتا ہے كہ جس حد تك ممكن ہو مندرجہ ذيل امور كو انجام ديں :
۱۔ والدين گرامي ! اپنے بچوں كو غدير كا واقعہ سنائيں اور انھيں خداوند عالم كي اس حجت بالغہ سے آشنا كريں اور حضرت علي بن ابي طالب عليہ السلام كے نام و ياد كو اپني زندگي ميں سر مشق قرار ديں ۔ اس سے بركت حاصل كريں اور اپنے گھروں كو معرفت علوي اور آسماني ہدايت كے نور سے منور و مزين كريں ۔
۲۔ غدير مكتب اہلبيت(ع) كي پہچان ہے اس لئے اخبار ، ميڈيا ، سايٹيں سبھي اس عشرہ غدير كي تبليغ كريں اور غديري حقائق كو عياں كريں اسي طرح منبروں پر ، تقريروں ميں اس عظيم عيد كا ذكر كريں بلكہ اس مقدس نام سے اجتماعات ،سيمينار اور جلسات منعقد كئے جائيں ۔
۳۔ تمام مدارس اور دانشگاہوں ميں غدير كا درس ديا جائے ، تمام لوگ اس جامع اور عالمي پيغام كو حاصل كريں ، دنيا كے معتبر علمي مراكز ميں غدير شناسي كا شعبہ بنايا جائے ، علماء و دانشمند حضرات ، اساتذہ و محققين علمي و تحقيقي موسسات ميں اس موضوع پر ايك رشتہ علم كي بنياد ڈالنے كے لئے ممكن كوشش كريں ۔
۴۔ عزيزو! غديري تمدن كي ترويج و تبليغ كے لئے كمر كس ليں كہ غدير سے تمسك ركھنا ہماري اصلاح كي ضمانت ہے ۔ معرفت كے عظيم زينے صرف غدير كي معرفت سے طے كئے جا سكتے ہيں۔ ملك كي پايداري ، خودمختاري ، استكبار كا مقابلہ صرف غدير سے متمسك رہ كر ہي كيا جا سكتا ہے ۔
آخر سخن ميں ہم، جو لوگ اس عظيم دانشگاہ كي خدمت ميں مشغول ہيں اور اس كے نوراني معارف كي ترويج و تبليغ كر رہے ہيں بالخصوص حوزہ علميہ اصفہان كے علمائے اعلام ،طلاب كرام دامت بركاتہم كا شكريہ ادا كرتے ہيں اور ان كے لئے درگاہ خداوند متعال سے عزت و توفيق كي دعا كرتے ہيں اور خود كو غلام مولائے كائنات حضرت قنبر كا ادنيٰ غلام سمجھتا ہوں اور اس غلامي پر فخر كرتا ہوں ۔
والسلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
۲۱ ذي القعدہ ۱۴۳۰
لطف اللہ صافي