قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

ہمايش قرآن و دانشگاہ كے نام حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا اہم پيغام

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ان ھذا القرآن يھدي للتي ھي اقوم ۔ صدق اللہ العلي العظيم

السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ
ميں تمام دانشجو ،طالبان علوم اور يونيورسٹي كے اساتذہ كرام كي خدمت ميں ہفتہ قرآن و دانشگاہ كے موقع پر ہديہ تبريك پيش كرتے ہوئے اس عظيم اور مقدس قرآني تحريك جس كے ذريعہ قرآني معارف اور علمي حقيقتوں كي چوٹيوں كو فتح كيا جا سكتا ہے اور يہ اجتماع جو خود ميرے لئے بھي علم و بصيرت كا دسترخوان ہے اس ميں شركت كي غرض سے آپ حضرات كي توجہ مذكورہ آيت ميں موجود عظيم معارف اور عميق پيغام كي جانب مبذول كرانا چاہتا ہوں ۔

يہ بات حق ہے كہ چودہ صديوں ميں قرآن اور اس كي ہدايتوں كے متعلق بہت زيادہ تحقيقات كي گئيں ہيں اور علم كے مختلف شعبوں ميں مفسرين عالي مقام ،بزرگ علماء اور مفكرين نے بہت زيادہ زحمتيں اٹھائي ہيں ليكن ہم اب بھي يہ كہہ سكتے ہيں كہ ہم ابھي اس عظيم شاہراہ كي ابتدا ميں ہيں ، جيسے جيسے زمانہ گزرتا جائے گا قرآن كي نورافشاني بڑھتي جائے گي ۔
قرآن مجيد كي جو بھي تفسيريں لكھي گئي ہيں وہ محتوا اور حجم دونوں لحاظ سےبہت زيادہ اہميت و عظمت كي حامل ہيں ، صرف ايك تفسير جو حلف بن احمد ساماني كے حكم سے اس زمانے كے علماء نے لكھي ، اس كا حجم اتنا زيادہ تھا كہ ايك بڑا كتابخانہ اس كے ركھنے كے لئے دركار ہے ۔ غير مسلمان منصف مفكرين بھي اس عظيم كتاب كے آگے سر تسليم خم كرتے ہيں ۔ قرآن مجيد گزشتہ چودہ صديوں سے بڑھ كر اس زمانے اور آئندہ زمانے كي كتاب ہے ۔
اس زمانے ميں يونيورسٹي كے طلباء كا قرآني تحقيق كي جانب رجحان قابل قدر ہے اور اميد ہے كہ روز بہ روز اس رجحان ميں اضافہ ہوگا جس سے قرآن كے ہم پلہ اور ہمارے زمانے كے امام حضرت مہدي ارواحنا لہ الفدا جو حديث ثقلين كي رو سے قرآن كے ہم پلہ ہيں ، اس سے خوشحال ہوں گے ۔
ہم اس عظيم توفيق پر خواجہ نصير الدين ٹيكنيكل يونيورسٹي كے اساتذہ ، ممبران اور طلباء كي خدمت ميں مباركباد پيش كرتے ہيں اور دعا كرتے ہيں كہ خداوند متعال يہ توفيق ہميشہ آپ لوگوں كو نصيب فرمائے ۔

 

۲۶ ذيقعدہ ۱۴۳۰
مطابق ۱۴نومبر۲۰۰۹
لطف اللہ صافي