اسلامي كانفرنس تنظيم كے نام آيۃ اللہ العظميٰ صافي كا اہم پيغام
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
خدمت اقدس رؤساء و ممبران تنظيم اسلامي كانفرنس
قال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ :
" من سمع مسلماً ينادي يا للمسلمين فلم يجبہ فليس بمسلم "
السلام عليكم ورحمۃ اللہ
برادران عزيز ! آپ اسلامي امانات ، قرآني امانات اور الٰہي امانات كے تحفظ كے ذمہ دار ہيں ۔ مسلمانوں كے تقدس كي حفاظت آپ كي سب سے اہم ذمہ داري ہے ،مسلمانوں كي عزت ، شرف اور ڈيڑھ ارب سے زائد مسلمانوں كے جان كي حفاظت آپ پر ہے ۔ توحيد خداوند كا اقرار كرنے والے يہ مسلمان جن كو كلمہ توحيد اور وحدت كلمہ نے ايك كلي اور مشترك منافع كے تحت ايك امت اور استكباري طاقتوں كے مقابلے ميں قرار ديا ہے انھيں اپني اس اخوت ، وحدت اور برادري پر فخر ہے ۔
ہم آپ كو بتا ديں كہ آج ہم مسلمانوں كو ايك دوسرے كے ساتھ تعاون كرنے اور آپسي صلح و صفائي ركھنے كي ہرزمانے سے زيادہ ضرورت ہے ۔ ايك ملك ميں مسلمانوں كي كمزوري تمام مسلمانوں كي كمزوري كے مترادف ہے ۔ فتنوں كي آك كو خاموش كرنے اور نا امني كو ختم كرنے كي ذمہ داري اسلامي كانفرنس تنظيم پر عائد ہوتي ہے اور اگر اس فريضہ كي ادائگي ميں ذرہ برابر كوتاہي كريں تو يہ اسلام كے ساتھ خيانت ہے ۔ يہ تنظيم دنيا ميں موجود اسلام دشمني كي لہر كو نظرانداز نہيں كر سكتي اور ان كے مقابلے ميں كسي اقدام سے دريغ نہيں كر سكتي ہے ۔ اسلام كے نام سے جو مسلمانوں كے درميان كمرشكن اختلافات پائے جاتے ہيں ان سے چشم پوشي كرنا ہوگا ۔ پاكستان ،افغانستان ،عراق اور دنيا كے ديگر مقامات پر مسلمانوں كے ہاتھوں بہت ہي وحشتناك اور فجيع طريقہ سے مسلمان كشي نے اسلام كو بدنام كر ركھا ہے ۔ اس سے مسلمانوں كو دنيا كے سامنے ايك بے رحم ،دہشتگرد قوم كے طور پر پيش كيا جاتا ہے اور پيغمبر كي عظيم صفت ( وما ارسلناك الا رحمۃ للعالمين )جو رحمانيت اور رحيميت كا مظہر ہيں ، اس كے برخلاف مسلمانوں كے قتل عام اور عورتوں اور بچوں كے قتل نے اسلام كي اس حقيقت كو پس پردہ ڈال ديا ہے ۔
ہم اسلامي اسلامي كانفرنس تنظيم سے يہ سوال كرتے ہيں كہ يمن ميں برادر كشي كے مقابلے ميں ساكت كيوں ہيں اور كيوں اس كے خلاف كوئي اقدام نہيں كر رہے ہيں ۔
كيوں ايك حكومت اپنے شہريوں پر ظلم كر رہي ہے اور ان كے حقوق كو پامال كر رہي ہے ،ان پر زميني اور ہوائي حملہ كر رہي ہے انھيں قتل كر رہي ہے اور ان كے مذہب كو برداشت نہيں كر سكتي ہے جس مذہب كي اساس زمانہ پيغمبر(ص) سے موجود ہے ۔ كيوں اس حكومت سے جواب طلب نہيں كيا جاتا ؟ اگر يمن ميں اس فريضہ كو ادا نہيں كيا گيا تو كہاں اس پر عمل كيا جائے گا ،اصلاً اس تنظيم كے وجود كا فلسفہ كيا ہے اور اس كا كيا فائدہ ہے ؟
افسوس كہ اس وحشتناك جنايت ميں بعض پڑوسي ممالك بھي شامل ہيں ۔
ميں انساني حقوق جيسي بين الاقوامي تنظيم جو اسلامي دشمن اور استكباري طاقتوں سے وابستہ ہے ، اس كي مذمت كرتے ہوئے اسلامي كانفرنس تنظيم سے يہ مطالبہ كرتا ہوں كہ اپنا سكوت توڑ كر اس قضيہ ميں دخالت كرے اور يمن كے مظلوم شيعوں پر فوج كي طرف سے ہونے والے مظالم كو روكے ، يمن كے حكام پر اعتراض كرتے ہوئے ان كي مذمت كرے
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلي العظيم
والسلام عليكم وعلي عباد اللہ الصالحين
۲۲ ذي القعدہ ۱۴۳۰
لطف اللہ صافي