قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

حضرت رسول اكرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم

آنحضرت كا اسم مبارك محمد ،كنيت ابوالقاسم اور مشہور لقب احمد يا مصطفيٰ ہے ،آپ كي عمر ترسٹھ(۶۳) سال تھي ۔

آپ كي ولادت ۱۷ ربيع الاول سن ۱ عام الفيل بروز جمعہ صبح صادق كے وقت ہوئي يہ وہ سال تھا جس سال پروردگار عالم نے كعبہ كو منہدم كرنے كي غرض سے آئے ہوئے لشكر كو ابابيل كے ذريعہ پسپا كيا۔

آپ كي وفات ۲۸ صفر ۱۱ ھجري كو ايك يہودي عورت كے زہر كے زير اثر واقع ہوئي ۔

جب آپ كي عمر مبارك ۲۵ سال تھي تو آپ نے جناب خديجہ (س) سے شادي كي ،اور چاليس سال كي عمر ميں ۲۷ رجب سن۴۰ عام الفيل ميں مبعوث بہ رسالت ہوئے ،۱۳ سال تك عظيم مشكلات كا سامنا كرتے ہوئے مكہ ميں رہے اور اسلام كي تبليغ كرتے رہے ليكن جب ديكھا كہ كفار قريش اسلام كي ترقي كي راہ ميں ديوار بن كر حائل ہو گئے ہيں تو مدينہ كي طرف ہجرت فرمائي، يہي وہ سال ہے جو تاريخ اسلام كے لئے مبدأ كي حيثيت ركھتا ہے ۔آپ نے اپني دس سالہ مدني زندگي كے دوران اپني رسالت كو پوري دنيا ميں پہنچا ديا ۔

آپ كے والد جناب عبداللہ ابن عبدالمطلب كا شمار عرب كي بزرگ شخصيتوں ميں ہوتا ہے،تاريخ شاہد ہے كہ جناب عبداللہ جيسي شخصيت عالم عرب ميں كم نظير ہے ،ابھي رسول اكرم (ص) كي ولادت بھي نہ ہونے پائي تھي كہ شام سے واپسي كے وقت مدينہ منورہ ميں آپ كي وفات واقع ہو گئي اور وہيں دفن كر دئے گئے ،اس دلخراش واقعہ كے بعد آپ كي كفالت كي ذمہ داري جناب عبدالمطلب نے سنبھال لي ،جب آپ پيدا ہوئے تو آپ كے دادا نے ايك دايہ كا انتخاب كيا جس كا نام حليمہ سعديہ تھا ،جن كے افتخار كے لئے يہي كافي ہے كہ پيغمبر (ص)ان كي فرزندي ميں آ گئے ۔

حليمہ سعديہ نے چھہ سال آپ كي پرورش كي اور اس كے بعد آپ كو آپ كي والدہ كے سپرد كر ديا ۔ پھر آپ اپني والدہ كے ہمراہ مدينہ منورہ اپنے والد كي زيارت كے لئے تشريف لے گئے اور واپسي ميں آپ كي والدہ بھي اس دنيا سے رخصت ہو گئيں چنانچہ آپ ام ايمن كے ساتھ مكہ واپس تشريف لائے اور اپنے دادا كے دامن ميں پناہ لي ۔

ابھي آپ صرف آٹھ برس كے تھے كہ جناب عبدالمطلب كي بھي وفات ہو گئي ليكن باپ جيسے شفيق چچا ،جناب ابوطالب اور ماں جيسي چچي فاطمہ بنت اسد نے يتيم عبداللہ كو اپنے كليجے سے لگا ليا ۔يہي وجہ ہے كہ اگر چہ رسول اسلام نعمت پدري و مادري سے محروم ہو گئے ليكن كبھي آپ كو احساس يتيمي نہ ہونے پايا كيوں كہ آپ كو جناب عبدالمطلب ،ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد جيسے سرپرست  نصيب ہوئے ۔ليكن ظاہر ہے كہ حضرت نے يتيمي كا داغ بھي ديكھا ہے ۔

چنانچہ قرآن كريم اسي نكتہ كي طرف اشارہ كرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

اَلَمْ يَجْدِكَ يَتيماً فآوي وَ وَجَدَكَ ضالاً فَهَدَي. وَ وَجَدَكَ عَائِلاً فَاَغْنَي۱

كيا ہم نے تم كو يتيم پاكر پناہ نہيں دي ہے ،اور كيا تم كو گم گشتہ پاكر منزل تك نہيں پہنچايا ہے اور تم كو تنگ دست پا كر غني نہيں بنايا ہے ۔

يہي وجہ ہے كہ آنحضرت اگر چہ يتيم ،گم گشتہ اور تنگدست تھے ليكن ان چيزوں نے آپ كي شخصيت كو متاثر نہيں كيا كيونكہ خداوند نے آپ كو ابوطالب جيسي شخصيت كے سپرد كيا تھا اور خديجۃ الكبريٰ جيسي خاتون كي ثروت كے ذريعہ غني بنايا ،كيوں كہ خديجہ نے شادي كے وقت ہي سارا مال پيغمبر(ص) كے قدموں ميں ڈال ديا تھا ۔

آپ كي والدہ آمنہ خاتون جناب وہب كي دختر، ايك باشرف خاندان سے تعلق ركھتي تھيں اور مزيد شرافت كے لئے يہ كافي ہے كہ آپ كو آنحضرت كي ماں بننے كا شرف ملا ہے ۔

پيغمبر اكرم (ص) كي شرافت ،كرامت، نيك سيرتي اور معجزات اتنے زيادہ ہيں كہ ان كے متعلق سيكڑوں كتابيں لكھي جاچكي ہيں ۔ليكن اختصار كے مد نظر ہم ان كا ذكر يہاں پر نہيں كرر ہے ہيں ۔ صرف ايك معجزہ كا ذكر جو آپ كي ولادت كے وقت رونما ہوا اور ايك دوسري بات جسے قرآن نے آپ كے سلسے ميں ذكر كيا ہے بيان كريں گے ۔اس كے بعد رسول اكرم (ص)كے القاب كي تفسير بيان كريں گے اور آخر ميں خاتميت كے متعلق گفتگو ہو گي ۔

معجزہ

مؤرخين كا كہنا ہے كہ جس دن آنحضرت كي ولادت ہوئي اس روز دنيا ميں كچھ تبديلياں اور تغييرات رونما ہوئے جيسے قصر كسريٰ كے كنگورے ٹوٹ گئے اور ان ميں شگاف پيداہو گئے ،دريائے ساوہ خشك ہو گيا ،فارس كا آتشكدہ جو مدتوں سے روشن تھا خاموش ہو گيا ،دنيا بھر كے بادشاہ اور سلاطين اس روز حيران و پريشان ہو گئے تھے ،بتوں كا سرنگوں ہوجانا ،جادوگروں كا جادو اس دن بے اثر ہو گيا تھا ،ساري كائنات ميں "لا الٰہ الا اللہ" كا شور اور جس وقت آپ پيدا ہوئے ساري كائنات آپ كے نور سے منور ہو گئي اور فرمايا: لا الٰہ الا اللہ اور ساري كائنات نے ان كے ساتھ كہا لا الٰہ الا اللہ ۔۔۔

قرآن اور پيغمبر اسلام

قرآن مجيد پيغمبراسلام (ص)كے سلسلے ميں فرماتا ہے :

وكذلك جعلناكم امة وسطاً لتكونوا شهداء علي النّاس ويكون الرسول عليكم شهيداً ۲

اور اسي طرح ہم نے تم كو درمياني امت قرار ديا ہے تاكہ تم لوگوں كے اعمال كے گواہ رہو اور پيغمبر تمھارے اعمال كے گواہ رہيں ۔

اس آيت كے دو معني ہيں :ايك ظاہري معني جسے تمام افراد سمجھ سكتے ہيں،وہ يہ ہے كہ امت اسلاميہ كو دوسري امتوں كے لئے سرمشق قرار ديا گيا ہے تاكہ دوسري اقوام اس كي پيروي كريں اور پيغمبر اسلام (ص) بھي امت اسلاميہ كے لئے نمونہ عمل ہيں ۔ليكن اس كے ايك دوسرے معني بھي ھيں جسے ائمہ معصومين عليہم السلام نے بيان فرمايا ہے اور شيعہ مفسرين خصوصاً علامہ طباطبائي نے اس آيت كريمہ كے ذيل ميں مفصل بحث كي ہے اور ان روايات سے استفادہ كياہے ۔وہ معني يہ ہے كہ امت اسلاميہ قيامت كےدن دوسري امتوں كے اعمال كي گواہ ہے اور چونكہ ساري امت والے اس عمل گواہي كي لياقت نہيں ركھتے لہذا يہ امر ائمہ عليہم السلام سے مخصوص ہے ،سني اور شيعہ دونوں كي روايات ميں اس بات كي طرف اشارہ موجود ہے ۔

بہر حال آيت كا مفہوم يہ ہے كہ پروردگار عالم نے ائمہ طاہرين كو خلق كيا تاكہ وہ قيامت كے دن لوگوں كے اعمال كي شہادت ديں اور پيغمبر اكرم(ص) كو ان كے اعمال پر گواہ قرار ديا گيا ۔اور چونكہ گواہ كے لئے ضروري ہے كہ وہ اسي دنيا ميں تمام امت كے اعمال سے باخبر ہو تاكہ قيامت كے دن شہادت دے سكے ،لہذا ضروري ہے كہ ائمہ عليہم السلام اس عالم وجود پر پوري طرح سے احاطہ اور اشراف ركھتے ہوں تاكہ امت كے اعمال سے مطلع رہيں ،يہي نہيں بلكہ ضروري ہے كہ انسانوں كے دل ميں چھپے ہوئے اسرار سے بھي واقف ہوں تاكہ قيامت كےدن اعمال كي كيفيت كي بھي گواہي دے سكيں ۔ ان تمام اوصاف كے حامل افراد كو واسطہ فيض كہتے ہيں ،بہ الفاظ ديگر انھيں ولايت تكويني حاصل ہوتي ہے ۔

اس لئے آيت كے معني يہ ہوں گے كہ ائمہ معصومين عليہم السلام اس كائنات كے لئے واسطہ فيض ہيں اور پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ان كے لئے واسطہ فيض ہيں ۔اس معني كے پيش نظر ان روايات كا مطلب بھي واضح ہو جاتا ہے كہ جن ميں پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم كو عقل كل ،نور مطلق يا اول ما خلق اللہ بتايا گيا ہے ۔

يہ ايك طولاني بحث ہے اور اس مقالہ ميں اس پر بحث كرنے كي گنجائش نہيں ہے  (اس كي تفصيلي بحث كے لئے "الامامۃ والولايۃ في القرآن "كي طرف مراجعہ فرمائيں )

قابل ذكر نكتہ يہ ہے كہ ساري آيات و روايات اس بات پر دلالت كرتي ہيں كہ ائمہ معصومين عليہم السلام اس دنيا ميں واسطہ فيض ہيں ،چنانچہ اس دنيا ميں جتني بھي نعمتيں پائي جاتي ہيں ،چاہے وہ ظاہري ہوں جيسے عقل ،سلامتي ،امنيت ،روزي وغيرہ يا باطني نعمتيں ہوں جيسے علم ،قدرت ، اسلام وغيرہ يہ سب انھيں كے وسيلے سے ہيں ۔يہ ذوات مقدسہ اس كائنات كے رموز خلقت سے واقف اور پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ان مقدس ذوات كے لئے واسطہ فيض ہيں ۔اور ہر وہ ظاہري و باطني نعمتيں جو انھيں ملتي ہيں وہ سب آنحضرت كے وسيلہ سے ملتي ہيں كيوں كہ پيغمبر اكرم صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم ان نعمتوں كے لئے علت كي حيثيت ركھتے ہيں ۔يہ ہے اس آيت كا مفہوم جس ميں ارشاد ہوتا ہے :"وكذلك جعلناكم امةً وسطاً لتكونوا شهداء علي النّاس ويكون الرسول عليكم شهيدا"ً اور يہ روايت جو ائمہ اطہار سے منقول ہے كہ "جو كچھ بھي ہم كہتے ہيں يا جو بھي ہمارے پاس ہے وہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم سے ہے اور جو بھي آنحضرت نے فرمايا يا ان كے پاس موجود ہے وہ خداوند عالم كا عطيہ ہے " اسي معني كو بيان كرتي ہے ۔

القاب

پيغمبر اسلام كے متعدد القاب ذكر ہوئے ہيں جن ميں سے ہم بعض القاب كا ذكر كرتے ہوئے ان كي مختصر وضاحت كريں گے ۔

۱۔ احمد

قرآن مجيد نے پيغمبر كو اس لقب سے ياد كيا ہے اور اسي سے يہ استنباط ہوتا ہے كہ حضرت كو اسي لقب سے "انجيل "ميں بھي ياد كيا گيا ہے ۔

ارشاد ہوتاہے :"و مبشراً برسولٍ يأتي من بعدي اسمه احمد"۳

ميں اپنے بعد كے لئے ايك رسول كي بشارت دينے والا ہوں جس كا نام احمد ہے۔

احمد كے معني ہيں "حمد كرنے والا"اور چونكہ رسول اكرم پروردگار كي حمد كيا كرتے تھے يعني حقيقي حمد و شكر كو انجام ديتے تھے لہذا انھيں احمد كہا گيا ہے ،روايات ميں ہے كہ لوگ آپ كي كثرت عبادت كي وجہ سے آپ پر اعتراض كيا كرتے تھے تو آپ فرماتے تھے :الم اكن عبداً شكوراً ؟

آيا ميں شكر گزار بندہ نہ بنوں ؟

۲۔محمود

آپ كا ايك لقب محمود بھي ہے چنانچہ آپ كا اسم گرامي قرآن مجيد ميں محمد ہے اور آپ كو محمد اور محمود كہا گيا ہے كيوں كہ آپ كے تمام صفات لائق تعريف ہيں قرآن مجيد فرماتا ہے :انك لعليٰ خلق عظيم۴

اور آپ اخلاق كے بلند ترين درجے پر فائز ہيں

۳۔ امي

يعني"جس سے كسي سے تعليم حاصل نہ كي ہو" چنانچہ قرآن مجيد كا ارشاد گرامي ہے :

وما كنت تتلوا من قبله من كتابٍ ولا تخطّه بيمينك اذاً لارتاب المبطلون ۵

اور اے پيغمبر ! آپ اس قرآن سے پہلے نہ كوئي قرآن پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے كچھ لكھتے تھے ورنہ يہ اہل باطل شبہہ ميں پڑ جاتے۔

ليكن تعليم حاصل نہ كرنے كے باوجود قرآن جيسي كتاب لانا اہل باطل كے شك كو بالكل مسترد كر ديتا ہے ۔چنانچہ پہلے چنانچہ پہلے بھي ہم اس بات كي طرف اشارہ كر چكے ہيں كہ خود آپ كا امي ہونا ہي آپ كے معجزات ميں سے ہے ۔ ايسا انسان جس كے بارے ميں سب جانتے ہيں كہ ان پڑھ ہے اور وہ ايسي كتاب لے آئے جس ميں تمام علوم موجود ہوں ،يہ كتاب اپنے آپ كو كتاب ہدايت كے ذريعہ پہچنواتي ہے اور ہدايت كے معني راستہ بتانے اور مقصد تك پہنچانے كے ہيں اسي وجہ سے بہت سي آيات ميں فلسفي دليلوں كو بطور مختصر اور قابل فہم بيان كيا گيا ہے ۔قرآن كوئي فقہ كي كتاب نہيں ہے ليكن اس كے باوجود ايسے ايسے قوانين اپنے دامن ميں لئے ہوئے ہے كہ جس كے سامنے بشريت آج بھي سر تعظيم خم كئے ہوئے ہے ۔كيا كسي ميں جرأت ہے كہ وہ قرآني قوانين كے مانند عبادي ،سياسي،معاشرتي ،اور جزا اور سزا سے متعلق قوانين لے آئے ؟ قل لئن اجتمعت الانس والجن علي ان ياتوا بمثل هذا القرآن لايأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعضٍ ظهيراً  ۶

آپ كہہ ديجئے كہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہو جائيں كہ اس قرآن كا مثل لے آئيں تو بھي نہيں لا سكتے ،چاہے سب ايك دوسرے كے مددگار اور پشت پناہ ہي كيوں نہ ہو جائيں ۔

۴۔ كريم

يہ لقب قرآن كريم سے ليا گيا ہے: اِنَّهُ لَقَولُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ۷

بے شك يہ ايك معزز فرشتے كا بيان ہے

آپ نے اپني مكي زندگي ميں زيادہ مصيبتوں كا سامنا كيا حتيٰ كہ آپ كو پتھر مارا گيا اور آپ پہاڑوں ميں پناہ ليتے تھے ليكن جب حضرت خديجہ (س) اور اميرالمومنين عليہ السلام آپ كے پاس پہونچتے تو آپ كو يہي كہتے ہوئے پاتے تھے "اَللَّهُمَّ اَهْدِ قَوميِ فَاِنَّهُمْ لايَعْلَمُونَ"

پروردگار ميري قوم كي ہدايت فرما يہ نادان ہيں ۔

جس روز آپ ۱۲ ہزار كے لشكر كے ساتھ مكہ ميں وارد ہوئے اور اپنے كسي صحابي كو يہ كہتے سنا كہ "اليوم يوم الملحمہ" آج جنگ كا دن ہے تو آپ نے اميرالمومنين عليہ السلام كو بھيجا اور يہ كہلوايا كہ لوگوں كے درميان يہ اعلان كر ديں كہ "اليوم يوم المرحمۃ" آج كا دن مرحمت اور عفو كا دن ہے ۔

۵۔ رحمت

يہ لقب بھي قرآن كريم نے آپ كو ديا ہے : وما ارسلناك الا رحمة للعالمين ۸

اور ہم نے آپ كو عالمين كے لئے رحمت بنا كر بھيجا ہے ۔

حضرت ختمي مرتبت كي رأفت و رحمت و مہرباني كو ديكھتے ہوئے قرآن مجيد كا ارشاد گرامي ہے : فلعلَّك باخع نفسك علي آثارهم ان لم يؤمنوا بهذا الحديث اسفا ۹

تو كيا آپ شدت افسوس سے ان كے پيچھے اپني جان خطرہ ميں ڈال ديں گے ،اگر يہ لوگ اس بات پر ايمان نہ لائے ؟

آپ كے حاالات سے يہ بتہ چلتا ہے كہ آپ كي زندگي ميں افسوس بھي تھا ،آپ كا شيوہ راز و نياز تھا ،صبر تھا نيز رنج و مصيبت بھي ۔

لقد جائكم رسول من انفسكم عزيز عليه ماعنتم حريص عليكم بالمؤمنين رئوف رحيم ۱۰

يقيناً تمھارے پاس وہ پيغمبر آيا ہے جو تم ميں سے ہے ،اور اس پر تمھاري ہر مصيبت شاق ہوتي ہے ،وہ تمھاري ہدايت كے بارے ميں حرص ركھتا ہے اور مؤمنين كے حال پر شفيق و مہربان ہے ۔

۶۔ متوكل

آپ كے القاب ميں سے ايك لقب متوكل ہے جس كے معني خود كو چھوڑ كر پروردگار پر بھروسہ ركھنے والے كے ہيں ۔

آپ سے جو دعائيں ماثور ہيں ان ميں اس طرح وارد ہوا ہے : اللهم لاتكلني الي نفسي طرفة عين ابداً

پروردگار مجھے ايك لمحہ كے لئے ميرے حال پر نہ چھوڑنا ،كہا جاتا ہے كہ ايك دشمن نے آپ كو ايك جنگ ميں تنہا سوتا ديكھ كر فوراً تلوار نكالي اور آپ سرہانے آكھڑا ہوا اور كہنے لگا : اے محمد اب تمھيں كون مجھ سے بچا سكتا ہے ؟ فرمايا: خدا ،يہ جملہ اتنا سخت تھا كہ وہ شخص لرزنے لگا اور تلوار نيچے لاتے وقت اس كے ہاتھوں سے چھوٹ گئي ۔حضرت اٹھے اور تلوار اٹھائي اور تلوار اس كے سر پر كھينچ كر پوچھا : كون ہے جو تجھے بچا سكے ؟ كہنے لگا : آپ كا رحم وكرم ،يہ سنتے ہي حضرت نے اسے معاف كر ديا ۔آپ ايسے كام جن كا پورا ہونا لوگوں كي نظروں ميں ناممكن ہوتا ہے ،اسے خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے كر گزرتے تھے ۔

اسي توكل كا نتيجہ تھا كہ آپ كے پاس سب كچھ موجود تھا ۔

آپ دنيا كو چھوڑ كر خدا پر بھروسہ ركھتے تھے ،اسي لئے آپ كي نظر ميں دنيا كي كوئي اہميت نہ تھي ،منقول ہے كہ آپ فرماتے تھے :دنيا كي مثال اس درخت كے سايے كے مانند ہے جس كے نيچے آدمي تھوڑي دير آرام كرتا ہے ۔

مختصر يہ ہے كہ آنحضرت متوكل تھے يعني آپ اپنے اوپر نہيں ،خدا پر بھروسہ ركھتے تھے ،نہ ہي دوسروں پر ،اور نہ ہي دنيا پر بھروسہ ركھتے تھے ۔

۷۔ امين

آنحضرت كے ديگر القاب ميں سے ايك لقب امين ہے ۔يہ ايسا لقب ہے جس كے ذريعہ عرب اسلام سے قبل حضرت كو مخاطب كيا كرتے تھے ۔تاريخ بتاتي ہے كہ قبل از بعثت آپ كے اندر غيرمعمولي كمالات موجود تھے منجملہ عفت ،صداقت ،محروموں كي امداد، اچھے معاشرتي آداب و رسوم كي رعايت ،خصوصاً صفائي اور امانتداري ،يہ ايسے صفات ہيں جنكي وجہ سے آپ عرب ميں مشہور ہو گئے تھے ،جناب ابوطالب فرماتے ہيں : ميں نے حضرت كو كبھي برہنہ نہيں ديكھا ،حتيٰ كہا جاتا ہے كہ كسي نے آنحضرت كو قضائے حاجت كي حالت ميں نہيں ديكھا ۔

جس روز آپ كو يہ حكم ملا كہ آپ اپني تبليغ علانيہ شروع كرديں ،آپ نے قريش كے بزرگوں كو جمع كيا تاكہ انھيں اسلام كي دعوت ديں اور سب سےپہلے جو چيز ان سے پوچھا وہ يہي تھي كہ : تم لوگوں نے مجھ كو كيسا پايا؟ سب نے جواب ديا : بے شك آپ صادق اور امين ہيں ۔

عبداللہ بن جزعان نامي شخص جو فقير تھا اور اسے گھر كي ضرورت تھي جبكہ آنحضرت كي عمر اس وقت صرف سات سال تھي ليكن آپ بچوں كو جمع كرتے تھے اور گھر بنوانے ميں اس كي مدد كرتے تھے ۔يہاں تك كہ اس كے گھر كا نام ہي "دار النصرہ " ركھ ديا اور كچھ لوگوں كو مظلوموں كي مدد كرنے كے لئے معين كر ديا ۔

آنحضرت نہايت مودب طريقہ سے چلتے تھے ،ادب سے بيٹھتے تھے اور ادب سے بات كرتے تھے ،ہميشہ مسكرايا كرتے تھے جس كي وجہ سے آپ كو "ضحوك" كہا جانے لگا ۔

آپ شيرين كلام اور فصيح تھے اور كبھي كسي كا دل نہيں دكھاتے تھے ،جہاں تك ممكن ہوتا لوگوں سے لطف و مہرباني سے پيش آتے تھے اور يہ ايسي چيزيں ہيں جو تاريخ كي رو سے مسلم اور يقيني ہيں ۔

۸۔عبداللہ

يہ لقب بھي قرآن كا ديا ہوا ہے ۔

سبحان الذي اسري بعبده ليلا من المسجد الحرام الي المسجد الأقصي الّذي باركنا حوله لنريه من آياتنا انه هو السميع البصير۱۱

پاك و پاكيزہ ہے وہ ذات جو لے گئي اپنے بندے كو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصيٰ تك ،بے شك وہ ذات سميع و بصير ہے

يوں كہنا بہتر ہوگا كہ يہ لقب آنحضرت كے بہترين القاب ميں سے ہے اور يہي وجہ ہے كہ تشہد ميں رسالت سے پہلے اس كا ذكر ہے ،عبوديت كے چند مراتب ہيں جس ميں سب سے اونچا مرتبہ لقاء اللہ ہے جسے قرآن مجيد نے متعدد مقامات پر بيان كيا ہے ،چنانچہ يہ ايك ايسا مرتبہ ہے جہاں دل صرف اپنے پروردگار كي طرف جھكتا ہے "لاتلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله" ۱۲ تجارت اور خريد و فروش انھيں خدا كي ياد سے غافل نہيں كرتي ہے۔

يہ وہ مرتبہ ہے جہاں دل عشق پروردگار سے لبريز ہو جاتا ہے ،اور پھر انسان اپني زندگي ميں كسي بھي ہم و غم كو نہيں آنے ديتا يعني اس كي نظر ميں خدا رہتا ہے صرف خدا ۔۔۔

اور اس كا دل اطمينان و وقار سے بھر جاتا ہے :" الا بذكر الله تطمئن القلوب"۱۳ پھر انسان كي زندگي ميں اضطراب كي كيفيت كا بالكل خاتمہ ہوجاتا ہے ،" الا انَّ اولياء الله لا خوف عليهم ولاهم يحزنون" ۱۴

بے شك اولياء خدا كے لئے نہ كوئي خوف ہے نہ حزن و اندوہ

آنحضرت معصوم تو تھے ہي ساتھ ہي ساتھ دوسروں كا گناہ بھي آپ كو رنجيدہ خاطر كرتا تھا ۔عبادت ميں آپ كو بہت لطف آتا تھا بلكہ كثرت عبادت سے آپ كے پيروں ميں ورم آجاتا تھا اس لئے سورۂ طٰہ نازل ہوا اور آپ كو كثرت عبادت سے منع كيا ۔

۹۔ مصطفيٰ

يہ لقب امت اسلاميہ كے لئے باعث افتخار ہے اسكے معني "منتخب"كے ہيں خدا نے آپ كو تمام موجودات كے درميان سے چنا اور كيوں نہ منتخب قرار پائيں ؟

آپ مختلف ابعاد كے مالك تھے ،آپ كو مقام جمع الجمعيٰ حاصل تھا ،جس جگہ عفو و رحمت اور ايثار و فداكاري كي بات آتي آپ كا نام سر فہرست ملتا ہے ،جس وقت حاتم طائي كي بيٹي مسلمانوں كے ہاتھوں اسير كر كے لائي گئي اور اسلام قبول كر ليا تو آپ نے اسے اس كے بھائي عدي بن حاتم كے پاس بھيج ديا،عدي نے اپني بہن سے باتيں سننے كے بعد رسول اسلام سے ملاقات كا ارادہ كيا تاكہ نزديك سے اسلام كا مشاہدہ كرے اور اس سے آشنا ہو سكے اور اسلام كو سمجھ كر اسے قبول كرے ،ان كا بيان ہے كہ : ميں پيغمبر اسلام(ص) كے ساتھ گھر جا رہا تھا كہ ايك عورت نے راستے ميں رسول سے كچھ كہنا چاہا ،چنانچہ حضرت ركے اور اس كي باتوں كو سنا اور نہايت ہي لطف اورمہرباني كا مظاہرہ كيا اس نے حضرت كو بہت زيادہ دير كھڑے رہنے پر مجبور كيا ليكن اس كے باوجود آپ نے اس كي بات نہيں كاٹي بلكہ آپ كي پيشاني پر بل تك نہ آيا۔

عدي كہتے ہيں : اس بات كي وجہ سے آنحضرت كي رسالت مجھ پر روشن ہو گئي جب ميں گھر پہنچا تو وہاں انداز زندگي بالكل سادہ تھا ،گھر كا فرش بھيڑ كي كھال سے بنا ہوا تھا ،كھانے ميں جو كي روٹي اور نمك تھا جس كي وجہ سے ميرے سامنے آپ كے نبوت كي دوسري دليل بھي ظاہر ہوگئي ۔جو انسان اتني قدرت اور تمكنت ركھتا ہو ،اس كے اس قدر مريد اور چاہنے والے ہوں اس كي زندگي اس قدر سادہ ہے ؟اور آخر كار آپ كا معجزہ ديكھ كر ميں آپ پر ايمان لے آيا اور مسلمان ہو گيا

حضرت نے مجھ سے فرمايا : تم تو دين اور عقيدے كے اعتبار سے ٹيكس كو حرام جانتے ہو كيوں لوگوں سے ٹيكس وصول كرتے ہو ؟ اس بات سے آنحضرت كي نبوت ميرے سامنے ظاہر ہو گئي ۔

وہ پيغمبر جس كي رقت قلب كا يہ عالم ہے كہ جب اس بچے كے رونے كي آواز سنتے جس كي ماں نماز ميں مشغول ہے تو اپني نماز جلد ختم كر ديتے ہيں،يہي پيغمبر جب اس بچي كو ديكھتے ہيں جس نے اپنا پيسہ گم كر ديا ہے تو اس كو پيسا ديتے ہيں اور اس كي سفارش كيلئے اس كے گھر تك جاتے ہيں اور يہي پيغمبر جب يہ ديكھتا ہے كہ دھوكے باز يہودي سازش اور پيمان شكني كے ذريعہ اسلام كي ترقي كي راہ ميں حائل ہو رہے ييں  تو ان كے سات سو افراد كے قتل كا حكم دے ديتے ہيں اور اسي كو مقام جمع الجمعيٰ يا مختلف ابعاد كا مالك كہتے ہيں۔

عموماً اگر انسان زہد ،عبادت اور رياضت نفس كا راستہ اختيار كر لے تو لوگوں سے اس كے تعلقات سرد ہو جاتے ہيں اور معاشرے ميں اس كے لئے كوئي جگہ نہيں رہ جاتي اور اس طرح وہ لوگوں كے دلوں پر حكومت نہيں كر پاتا كيوں كہ اس كا اخلاقي پہلو ضعيف ہو جاتا ہے ليكن اس كے باوجود پيغمبر كا اخلاقي كردار نہايت قوي يا بلند تھا ،بعثت سے قبل غار حرا آپ كي عبادت گاہ تھي ،آپ عبوديت كي معراج پر فائز تھے ليكن ان تمام چيزوں كے باوجود قرآن آپ كے اخلاق حسنہ كي گواہي ديتا ہے اور لوگوں كے سامنے آپ كي ملنساري پر مہر تصديق لگاتا ہے ۔"فبما رحمۃٍ من اللہ لنت لھم ولو كنتَ فظاً غليظ القلب لانفضوا من حولك"

يعني اے پيغمبر آپ گفتار ،رفتار ،زبان ،عمل كے ذريعہ لوگوں كو اپنے اطراف سے بھگاتے نہيں بلكہ انھيں چيزوں كے ذريعہ لوگ آپ كے چاروں طرف پروانوں كي طرح چكر لگا رہے ہيں اور اگر كوئي آپ كا اتباع كرنا چاہے تو ضروري ہے كہ رقيق القلب بنے قسي القلب نہ ہو

مختصر يہ كہ آپ كي ذات گرامي تمام صفات كماليہ كي مالك تھي حالانكہ ان صفات كو اپنے اندر جمع كرنا بہت مشكل اور دشوار امر ہے ،آپ عالم ،عاشق خدا ،عارف ،دشمنوں كے لئے سخت ،شجاع،خوشرو،عاقل ،آخرت كو اہميت دينے والے بلكہ دنيا كو بھي اہميت دينے والے تھے ،ساتھ ہي ساتھ زاہد ،سرگرم عمل اور ثبات قدم كے مالك تھے ۔

آپ كے القاب بہت زيادہ ہيں جس طرح آپ كے صفات كماليہ بے شمار ہيں ليكن اختصار كے پيش نظر ہم فقط انھيں چند القاب كو بيان كر رہے ہيں :

بلغ العليٰ بكمالہ ******** كشف الدجيٰ بجمالہ

حسنت جميع خصالہ ******** صلّوا عليہ و آلہ

آپ كمال كے عالي ترين درجہ پر فائز تھے ،تمام تاريكياں آپ كے جمال سے روشن ہوگئيں۔ آپ كے تمام صفات نيك اور پسنديدہ ہيں ،ان پر اوران كي آل پاك پر صلوات بھيجو۔

خاتميت

آپ كے جملہ القاب ميں سے ايك لقب خاتم الانبياء بھي ہے ،خاتم (ت پر فتحہ اور كسرہ دونوں صحيح ہے)اور دونوں كے معني ايك ہيں چنانچہ عربي ميں خاتَم (تا كے فتحہ كے ساتھ)كے معني انگوٹھي كے ہيں ،كيوں كہ اس زمانے ميں مہر كے لئے استعمال ہوتي تھي اور اس زمانے ميں جب كسي كو خط لكھا جاتا تھا تو اس كے آخر ميں انگوٹھي كے ذريعہ مہر لگا ديتے تھے۔پيغمبر اكرم كي خاتميت بھي اسي معني ميں ہے كہ آپ آخري پيغمبر ہيں اور آپ كے بعد قيامت تك كوئي پيغمبر نہ آئے گا ۔

حلال محمد حلال اليٰ يوم القيامۃ و حرام محمد حرام اليٰ يوم القيامۃ

قرآن كريم نے بہت سي آيات ميں اس بات كي طرف اشارہ كيا ہے كہ آنحضرت كي رسالت ساري دنيا كے لئے ہے ،اور ہر زمانے كے لئے ہے ۔

وما ارسلناك الا كافۃ للناس ۱۵

ہم نے آپ كو تمام لوگوں كے لئے بھيجا ہے ۔

ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله و خاتم النّبيين (احزاب/۴۰)

قرآن مجيد ميں ايسے خطابات متعدد مقامات پر پائے جاتے ہيں نيز خاتميت كے عنوان پر پائي جانے والي روايات بھي بہت ہيں ۔

حديث منزلت : يہ ايك ايسي حديث ہے جو شيعہ اور اہل سنت دونوں ہي فرقوں كے نزديك مسلم ہے چنانچہ صاحب غايۃ المرام نے اس حديث كو ۱۷۰ سند كے ساتھ نقل كيا ہے كہ جس ميں ۱۰۰سنديں اہل سنت سے ہيں ۔

انت مني بمنزلۃ ھارون من موسيٰ الا انہ لا نبيَّ بعدي

تمھاري منزلت ميرے نزديك ويسے ہي ہے جيسے ہارون كي منزلت موسيٰ كے نزديك تھي ،فرق يہ ہے كہ ميرے بعد كوئي نبي نہيں آئے گا۔

دو چيزوں كو خاتميت كا راز كہا جا سكتا ہے۔

(الف)

اسلام دين فطرت ہے

فاقم وجهك للدّين حنيفاً فطرت الله الّتي فطرالّناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدّين القيّم لكنّ اكثرالّناس لايعلمون (روم /۳۰)

آپ اپنے رخ كو دين كي طرف ركھيں اور باطل سے كنارہ كش رہيں چونكہ يہ دين وہ فطرت الٰہي ہے جس پر اس نے انسانوں كو پيدا كيا ہے اور خلقت الٰہي ميں كوئي تبديلي نہيں ہو سكتي ہے ،يقيناً يہي سيدھا راستہ اور مستحكم دين ہے مگر لوگوں كي اكثريت اس بات سے بالكل بے خبر ہے ۔

(ب)

اسلام ايك جامع دين ہے

يعني اسلام ايسا دين ہے جو ہر زمانے ہر مكان اور ہر حال ميں معاشرے كي مشكلات كا حل ركھتا ہے ،نيز اسلام بھي اس بات كا مدعي ہے كہ اس نے تمام انساني ضروريات كا راہ حل بيان كيا ہے ۔

وانزلنا عليك الكتاب تبياناً لكلّ شيء ۱۶

اور ہم نے آپ پر كتاب نازل كي ہے جس ميں ہر شئ كي وضاحت موجود ہے ۔

اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام ديناً ۱۷

آج(غدير كےدن)ميں نے تمھارے لئے دين كو كامل كر ديا ہے اور اپني نعمتوں كو تمام كر ديا ہے اور تمھارے لئے دين اسلام كو پسنديدہ بنا ديا ہے ۔

بہت سي روايات ميں بھي ايسا ہي دعويٰ پايا جاتا ہے كہ يہ روايات ائمہ معصومين عليھم السلام سے منقول ہيں ۔

ما من شئٍ تطلبونہ الا وھو في القرآن فمن اراد ذالك فليسئلني عنہ

تمھارے ضرورت كي كوئي ايسي چيز نہيں جو قرآن ميں موجود نہ ہو ،لہذا جو چاہو مجھ سے پوچھو۔

اب ايسي صورت ميں كسي دوسرے دين كا آنا بے فائدہ يا تحصيل حاصل ہے ،يا دوسرے الفاظ ميں يوں كہا جائے كہ كسي دين كا كسي دين كے بعد آنا چند چيزوں كي وجہ سے ہوتا ہے ۔

۱۔ جب پہلا دين معاشرے كي ضروريات پوري كرنے سے قاصر ہو ،اور كسي زمانے سے مخصوص ہو جب كہ ہم نے پہلے بيان كيا كہ اسلام ہر زمانے كے لئے ہے اس ميں كوئي محدوديت نہيں ہے ،اور اس كي واضح دليل مسئلہ مرجعيت ہے ،آپ كسي فقيہ جامع الشرائط كو نہ پائيں گے كہ اس سے كسي مسئلے كے بارے ميں سوال كيا جائے اور وہ اس مسئلے كو نہ جانتا ہو يا جواب نہ دے سكے ۔

۲۔ پہلے والے دين ميں تحريف يا انحراف پيدا ہو جائے ،چنانچہ يہوديت ،اور عيسائيت اس كي واضح مثال ہيں ،انھيں خود بھي اس بات كا اعتراف ہے كہ ان كا دين تحريف شدہ ہے ۔

جبكہ يہ چيزيں اسلام ميں نہيں ملتي ہيں كيوں كہ پروردگار نے اس كے حفاظت كي ذمہ داري اپنے ہاتھوں ميں لے ركھي ہے ۔

لا ياتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد ۱۸

جس كے قريب ،سامنے يا پيچھے سے باطل نہيں آسكتا كہ يہ خدائے حميد و حكيم كي نازل كردہ كتاب ہے ۔

۳۔ زمانہ اس بات كي اقتضا كرتا ہو كہ پہلے والا دين باقي نہ رہے ،اس كے معني يہ ہيں كہ اگر كسي دين نے معنويات و روحانيت كي طرف زيادہ توجہ دي ہو تا كہ معاشرے ميں اعتدال پيدا ہو جائے تو جب معاشرے ميں تعادل برقرار ہو جائے تو اس دين كي ضرورت ختم ہو جائے گي ،ليكن اسلام ايسا دين نہيں ہے كيوں كہ ہم پہلے بھي اس بات كي طرف اشارہ كر چكے ہيں كہ اسلام دين فطرت ہے يعني اس دين مقدس ميں جتني اہميت معنويت كو دي ہے اتني ہي ماديت كو بھي ۔

وابتغ فيما اتيك الله الدّار الآخرة ولا تنس نصيبك من الدّنيا  ۱۹

جو كچھ خدا نے ديا ہے اس سے آخرت كے گھر كا انتظام كرو اور دنيا ميں اپنا حصہ بھول نہ جاؤ ۔

خدا نے ہميں عقل، قدرت ،شعور ،توفيق ،مال و منال وغيرہ جيسي نعمتيں دي ہيں ہميں چاہئے كہ ان چيزوں كے ذريعہ اپني آخرت كي طرف متوجہ ہوں ليكن دنيا كو بھي نہ بھوليں ۔

اسلام ايك ايسي كتاب كا نام ہے جس ميں تمام قوانين بيان كئے گئے ہيں جس كے ذريعہ ہم اپنے مسائل اور مشكلات كا حل تلاش كر سكتے ہيں ،يہ كتاب اپنےدامن ميں ايسے نكات كو سميٹے ہوئے ہے جسے انسان قيامت تك بروئے كار لا سكتا ہے ،گزشتہ انبياء،اللہ كي طرف سے آئے تاكہ اپنے ساتھ لائے ہوئے قوانين كو بيان كريں (انھيں رسول كہتے ہيں)اور قرآن كريم ان انبياء كي جگہ پر ہے اور ان كي نيابت كر رہا ہے ،لہذا دوسرے انبياء كا آنا بے فائدہ ہے ،يا يوں كہا جائے كہ ان كي بعثت كا مقصد دين الٰہي كي تبليغ اور قوانين الٰہي كا نفاذ تھا اور اكثر انبياء اسي مقصد كے لئے آئے تھے ،اور اسلام نے امر بالمعروف اور نہي عن المنكر جيسے قانون كے نفاذ كے لئے نيكي كي ہدايت كرنے والے اور برائيوں سے روكنے والے ،علماء كي شكل ميں موجود ہيں ،چنانچہ اسلام نے ان علماء كو بہت اہميت دي ہے بعض روايات ميں علماء كو بني اسرائيل كے انبياء كے برابر قرار ديا گيا ہے ۔

مسئلہ امامت اور اس كے بعد يعني غيبت كے دوران ولايت فقيہ جيسي اہم چيزيں اسلام ميں ايسي ہيں جن كي وجہ سے رسول كي خالي جگہ پر ہو جاتي ہے اور اس كي ضرورت باقي نہيں رہ جاتي ،گويا اب رسول كا آنا جب كہ تمام ضروريات مہيا ہوں تو عبث اور بے فائدہ ہے ۔

يہ بحث خاتميت كا خلاصہ تھا اور ظاہر ہے كہ يہ مسئلہ بہت تفصيلي اور علمي ہے جو اس مختصر مقالے ميں بيان نہيں ہو سكتا ہے ،تفصيل كے لئے ولايت فقيہ سے متعلق كتابوں كي طرف رجوع فرمائيں ۔

 

والسلام عليكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ


۱۔ سورۂ ضحي، آيات 6 و 7 و 8.

۲۔ سورۂ بقره، آيه 143.

۳ ۔ سورۂ صف، آيه 6.

۴ ۔ سورۂ قلم، آيه 4.

۵ ۔ سورۂ عنكبوت، آيه 48.

۶ ۔ سورۂ بني اسرائيل 88.

۷ ۔ سورۂ تكوير، آيه 19.

۸ ۔ سورۂ انبياء، آيه 107.

۹ ۔ سورۂ كهف، آيه 6.

۱۰ ۔ سورۂ توبه، 128.

۱۱ ۔ سورۂاسراء، آيه 1. 17/1.

۱۲ ۔ سورۂ نور، آيه 37. 24/37 كا جزء

۱۳ ۔ سورۂ رعد، آيه 28 كا جزء

۱۴ ۔ سورۂ يونس، آيه 62.

۱۵ ۔ سورۂ سبا، آيه 28كا جزء

۱۶ ۔ سورۂ نحل، ايه 89 كا جزء

۱۷ ۔ سورۂ مائده ، آيه 3 كا جزء

۱۸۔ سورۂ فصّلت، آيه 42.

۱۹ ۔ سورۂ قصص، آيه 77 كا جزء