نظريات
انتظار فرج
اِنْتِظارُ الْفَرَجِ مِنْ اَفْضَلِ الْعَمَلِ، اَفْضَلُ اَعْمالِ اُمّتى اِنْتِظارُ الْفَرَجِ
(الامام والتبصرہ ص/ ۱۶۳)
انتظار فرج بہترین عمل ہے ،ہماری امت کا بہترین عمل انتظار فرج حضرت حجت(عج)ہے ۔
یہ انتظار ایک امید ہے ،ہمیں قوت بخشتا ہے ،ہمارے لئے زندگی ،شادابی اور جہاد ہے ،انتظار کا مطلب خاموشی ،مایوسی ،کمزوری ،مجبوری اور سستی نہیں ہے۔خدا کے لئے عمل انجام دینا ،کلمہ الٰہی کی سرفرازی ،بندگان خدا کے آسایش و آرام کے لئے عمل انجام دینا ،خدا کی راہ میں قدم بڑھانا ہے ۔
امام حجت(عج) کی معرفت
آج ہمارے معاشرے ،ہمارے جوانوں بلکہ ہم سب کو اس بات کی شدید ضروت ہے کہ ہم امام زمانہ (عج)کی معرفت حاصل کریں ،ان کی راہ روش سے آشنا ہوں ،اپنے زمانے کے ولی اور امام کو پوری طرح سے پہچانیں۔
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں : من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاہلیۃ(الاقتصاد ،شیخ طوسی(رہ)ص/۲۲۶)
جو بھی اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر دنیا سے چلا جائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔
دوسری حدیث میں آیا ہے: فلیمت اِن شاء یہودیاًو ان شاء نصرانیاً۔(وسایل الشیعہ ج/۸ص/۲۰)
یہ ایک اہم تاکید ہے، ہمیں اپنے زمانے کے امام کو پہچاننا چاہئے ،ہمیں چاہئے کہ امام کے متعلق آیات و روایات کو پڑھیں اور انھیں منبروں پر تقریروں میں بیان کریں ،مقالات اور تحریروں میں اس کی توضیح و تفسیر پیش کریں ۔ہمیں غیبت اور اس زمانے میں پیش آنے والے واقعات اور امتحانات کے متعلق آگاہی ہونا چاہئے ،ہمیں اپنی حد تک ان کے مقاصد سے آشنا ہونا چاہئے،ہمیں ان سیکڑوں کتابوں سے استفادہ کرنا چاہئے جو امام مہدی (عج)کی ولادت سے پہلے لکھی گئی ہیں ۔
حدیث میں وارد ہوا ہے کہ امام حسین(ع) سے سوال کیا گیا :یابن رسول اللہ بابی انت و امی فما معرفۃ اللہ ؟
فرزند رسول (ص)! ۔میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔خدا کی معرفت کیا ہے ؟ یعنی خدا کی معرفت کن چیزوں سے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے ؟امام نے فرمایا:معرفۃ کل زمان امامہم الذی یجب علیہم طاعتہ (علل الشرائع،شیخ صدوق(رہ)ج/۱ص/۹)
ہر زمانے والوں کے لءے اس زمانے کے امام کی معرفت خدا کی معرفت ہے ۔
چونکہ امام کی معرفت کے بغیر خدا کی معرفت کا حق ادا نہیں ہو سکتا ہے۔
نیرنگ دشمن
دشمنان اسلام کے خطرناک عزائم میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسلامی شناخت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے انھوں نے مسلمانوں کے درمیان مختلف قومیں ایجاد کیا ،مردہ ملتوں کو زندہ کیا اور مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے ان کے درمیان ایسے ادارے قائم کئے ہیں جو ایک صدی سے اپنے ان پروگراموں کی ترویج کر رہے ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ غیر اسلامی تہذیبوں کی ترویج کریں اور جن اسلامی اقدار پر مسلمان ایمان رکھتے ہیں ان کو کمزور بنائیں۔یعنی چونکہ مسلمانوں کو دوبارہ ان مردہ تہذیبوں کی طرف نہیں پلٹایا جا سکتا لہذا ان کو اسلامی تہذیب سے دور کر کے غیر متمدن اور غیر مہذب قوم بنا دیا جائے۔
انقلاب اسلامی سے قبل ایران میں ایسے ہی حالات پیدا ہوئے تھے جن کی وجہ سے تاریخ اسلام کو تاریخ شہنشاہیت کا نام دیا گیا اور اسی طرح جب انقلاب اسلامی کے بعد ہزاروں جوانوں کی قربانی کے صلے میں پارلیمنٹ بننے کا وقت آیا تو یہی لوگ تھے جنہوں نے آواز اٹھائی کہ پارلیمنٹ کا نام مجلس اسلامی کے بجائے مجلس ملی رکھا جائے ۔
یہ سیاست آج بھی جاری ہے اور دشمنان اسلام ،ایران کو غیر اسلامی ،اسی طرح ترکی ،مصر ،یا دیگر مسلمان ممالک کو غیر اسلامی بنانا چاہتے ہیں ۔
تہذیب نفس
آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نفس کو اس طرح سنواریں کہ اپنے حیوانی اور جسمانی خواہشات پر غالب آسکیں اور نفس امارہ ،شہوت مال و منال اور جاہ جلال کی خواہش اور لشکر جہل و نادانی ہمیں مغلوب نہ کر سکے اور ہمیشہ سے جاری اس جنگ سے ہم کامیاب و سرفراز ہو کر نکلیں ۔
شعایر الٰہی کا احترام
آج شعایرالٰہی کے احترام اور کلمہ الٰہی کی سرفرازی کے لئے ضروری ہے کہ ہم تبلیغ اسلام اور سیاسی ،اقتصادی اور ثقافتی استقلال کے ذریعہ ،کفار سے ناطہ توڑ کر اپنے علم و ٹیکنالوجی کو وسعت بخشیں۔
امر بالمعروف ،نہی از منکر ،نیکی اور تقویٰ کے تعاون ،حاجتمند مسلمانوں کی مدد ،وطن اسلامی کی جغرافیائی اور فکری و اعتقادی سرحدوں سے دفاع ،بدعت اور فساد سے مقابلہ کے لءے ہم سب ذمہ دار ہیں۔
اس وقت پوری دنیا ظہور امام عصر(عج) کے منتظر شیعوں کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے مقاصد کی تکمیل کے لئے سعی و کوشش کریں ۔
اسلامی شناخت
آج عالم اسلام کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ اسلامی شناخت کا ہے جس پر ہر مسلمان کو فخر ہے ،مسلمان قبل اس کے کہ ایشین ،یورپین یا افریقی ہو ،مسلمان ہے ۔وہ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے ۔
اس کے لئے قرآن، تاریخ اسلام ،عالم اسلام کی بزرگ شخصیتیں ،اسلامی آثار ،مسجد الحرام ،مسجد النبی ،مسجد اقصیٰ ،مسجد کوفہ ،اسپانیا کی ویران مسجدیں،ہندوستان و ترکی کی عظیم مسجدیں ،اہل بیت(ع)کے مقدس مزار اور دیگر سیکڑوں اسلامی آثار علمی و فنی قابل فخر ہیں ۔
مسلمان محمد ،علی ،حسن و حسین حمزہ ،جعفر طیار اور دیگر اسلام کی بزرگ ہستیوں کے مقدس ناموں پر فخر کرتا ہے اور اپنے بچوں کا نام ان کے ناموں پر رکھتا ہے ۔
زمانہ غیبت
غیبت کا زمانہ آزمائش و امتحان اور خودسازی کا زمانہ ہے ۔
ایسے زمانے میں سعادتمند اور ایسے مومنین جو اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں ،اس انسان ساز مکتب میں اپنی تربیت کریں ،مختلف مشکلات اور سختیوں کو برداشت کرنے کے باوجود ان کا ایمان متزلزل نہ ہو،طوفان حوادث میں پہاڑ کی طرح مستحکم کھڑے رہیں ،ایسے افراد سے جدا ہو جائیں گے جن کا ارادہ کمزور اور ایمان ضعیف ہے۔
جتنا بھی دین سے متمسک رہنا سخت تر ہوتا جائے گا اور محرومیت کا باعث بنتا جائے گا اتنا ہی ان کا ایمان قوی تر اور مضبوط ہوتا جائے گا ،اور زمانہ غیبت کے متعلق احادیث میں جو علامات بیان ہوئیں ہیں کہ گناہ کاری ،ناچ گانا،نامحرم مرد عورتوں کا ایک ساتھ رہنا وغیرہ زیادہ ہوگا ،احادیث کی سچائی مومنین کے لئے واضح اور روشن ہوتی جائے گی ۔
ان حالا تمیں اپنے دین کی حفاظت اتنی ہی سخت ہو جائے گی جتنا کہ ہاتھ پر انگارے رکھنا دشوار ہے ،یا جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے
اِنَّ لصاحب ھذا الامر غیبۃٌ المتمسک فیہا بدینہ کالخارط للقتاد (االامام والتبصرہ ص/۱۲۶)
امام مہدی (عج) کی غیبت کے زمانے میں دین کی حفاظت ایسے ہی ہے جیسے شاخ کو ہاتھوں سے سُرکنا ۔اس زمانے میں ثابت الایمان افراد کا ثﷺاب ان لوگوں کے ثواب کے برابر ہے جنہوں نے پیغمبر(ص) کے ساتھ کفار کے مقابلے میں جہاد کیا اور تلوار چلائی ہے ،ان کا مقام اس قدر بلند ہے کہ پیغمبر(ص) نے انھیں اپنا بھائی کہا ہے اور ان سے مالقات کی تمنا کی ہے ۔
غیبت پر ایمان رکھنے والے ہی لشکر خدا کے سپاہی اور ظہور امام مہدی(عج) ،عالمی حکومت اور اسلام کے حقیقی منتظر ہیں جن کے لئے حدیث میں آیا ہے:
اُولئِكَ هُمُ الْمُخْلَصُونَ حَقّاً وَ شيعَتُنا صِدْقاً وَ الدّعاةُ اِلى دينِ اللّهِ وَ جَهْراً اُولئِكَ الّذينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ثُمّ اُولئِكَ حِزْبُ اللّهِ اَلا اِنّ حِزْبَ اللّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۔
(کمال الدین ص/۲۲۰)
ترجمہ:بے شک یہ لوگ مخلص ہیں، ہمارے سچے شیعہ اور خدا کے دین کی طرف خفیہ اور علانیہ دعوت دینے والے ہیں اور یہی غیب پر ایمان رکھنے والے اور حزب اللہ بھی ہیں ۔ آگاہ رہو کہ حق کے طرفدار ہی کامیاب ہیں ۔ اور حدیث (المنتظر لامرنا کالمتشحط بدمہ فی سبیل اللہ )ہمارے امر کے منتظر اس مجاہد کی مانند ہیں جو راہ خدا میں زخمی ہو اور اپنے خون میں غلطاں ہوں۔
قرآن و اہلبیت (ع)
آج جب لوگ قرآن کی طرف بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پیغمبر اسلام (ص) کے اس انتباہ کی طرف توجہ دیں جسے پیغمبر اکرم (ص) نے حدیث ثقلین جیسی متواتر روایت میں بیان کیا ہے کہ قرآن سے تمسک اہل بیت (ع) کے ساتھ ساتھ ہونا چاہئے ۔
اس یقینی حدیث کے مطابق جو چیز ہمیں ضلالت و گمراہی سے نجات دے سکتی ہے وہ قرآن و عترت سے تمسک اختیار کرنا ہے ۔
مقام قرب الٰہی کی جانب پرواز فقط ان دو پروں کے ذریعہ ممکن ہے ،تنہا ایک پر سے پرواز کرنا ممکن نہیں ہے ،ائمہ اطہار(ع) کی ہدایات پر توجہ اور ان کی ولایت اور معرفت کے بغیر قرآن و تجوید پڑھنے سے قرب الٰہی حاصل نہیں ہو سکتا ۔ورنہ تاریخ میں حجاج جیسے لوگ بھی ہیں جنھیں قرآن پڑھنے میں مہارت حاصل تھی لیکن (رُبَّ تال القرآن والقرآن یلعنہ ۔ترجمہ: بہت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں جن پر خود قرآن لعنت بھیجتا ہے )کے مصداق تھے۔
(المحجۃ البیضاء ۔فیض کاشانی (رہ)ج/۲ص/۲۱۸)
پیغام قرآن
ایک دین ،ایک حکومت ،ایک نظام ،ایک معاشرہ ،مساوات اور عدالت ،صلح و امانتداری ،سچائی اور پاکیزگی ،رحم وکرم ،آسائش و آرام اور امن و قانون ہر ایک کے لئے ہونا یہ سب وہ چیزیں ہیں جن کی طرف قرآن نے ہمیں دعوت دی ہے ۔ایک جملہ میں یوں کہا جائے کہ قرآن دنیا کو ظلمات اور تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لے آیا ہے اور اپنی دلنشین ندا اِنَّ اللہ یأمُرُ بالعدل و الاحسان ۔نحل آیت /۹۰۔اِنَّ اکرمکم عنداللہ اتقٰکم ۔حجرات آیت ۱۳،خداوند عدل و احسان کا حکم دیتا ہے ،بے شک سب سے زیادہ عزیز وہ ہے جو سب سے بڑا متقی ہو۔اور اسی طرح کی سیکڑوں نجاب بخش ٓنداؤوں کے ذریعہ ہر انسان کے مقام انسانیت کو عزت بخشی ہے ۔یہ کتاب جس طرح چودہ صدی قبل کامل معجزہ اور اسلام کی حقانیت پر واضح دلیل تھی آج بھی اور ہمیشہ کے لئے معجزہ اور دلیل ہے ۔ہر مسلمان ہر زمانے میں اس آیت (اوَ اِنْ كُنْتُمْ فى رَيْبٍ مِمّا نَزّلْنا عَلى عَبْدِنا فَاْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ، (ترجمہ: اگر تم کو اس کتاب میں شک ہے جس کو ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کے مثل ایک سورہ لے آؤ۔سورہ بقرہ آیت/۲۳)کی تلاوت کے ذریعہ اس کتاب کے اعجاز کو دنیا والوں کے سامنے پیش کر کے اس غیبی تائید فَاِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ لَنْ تَفْعَلُوا، (ترجمہ: لیکن اگر ایسا نہ کر سکے کہ ہرگز نہیں کر سکتے سورہ بقرہ آیت /۲۴)کو نئے طریقے سے مشاہدہ کر سکتا ہے۔
زمانہ غیبت میں مومنین کی ذمہ داریاں
منتظر حقیقی جسے حضرت کے ظہور ،عالمی پیمانے پر عدالت کے قیام اور حکومت حضرت مہدی (عج) کا انتظار ہے ،اس دن کا انتظار ہے جس دن دین اسلام پوری دنیا پر چھا جائے گا ،ہر جگہ عدالت قائم ہوگی ،اسلامی برادری اور مساوات کا چرچہ ہوگا ،عقلیں کامل ہو جائیں گی اور علم و معرفت ،جہالت کی تاریکیوں کو نابود کر دیں گے،اسے خود بھی چاہئے کہ ان مقاصد کے حصول کے لئے قدم بڑھائے ،کلمہ الٰہی کی سرفرازی اور مسلمین کی سر بلندی کے لئے میدان عمل میں آئے، دنیا میں اسلام و مسلمین پر کیا گزر رہی ہے اس سے باخبر ہو تاکہ اپنی اس ذمہ داری کو پورا کر سکے جو ہر مسلمان کے کاندھے پر ہے ۔